SHAWORDS
Aftab Navab

Aftab Navab

Aftab Navab

Aftab Navab

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

عوض دیوں کے وہ راتیں اجالنے والے سنا ہے جل گئے سورج کو پالنے والے جو مجھ کو جھونک کے بھاگے ہیں جنگ میں تنہا ہیں میرے بعد خلافت سنبھالنے والے یہ جن کی چوک میں لاشیں پڑی ہیں لا وارث یہی تھے پیار کی راہیں نکالنے والے زباں ہی جس کی نہیں ہے وہ بول پائے کیا بجھے چراغ میں اے تیل ڈالنے والے ارے بلا کہ انہیں آئنہ دکھائیں ہم کہاں ہیں چاند پہ کیچڑ اچھالنے والے

evaz diyon ke vo raatein ujaalne vaale

41 views

غزل · Ghazal

چلائی سانس کی آری جوانی کاٹ دی ساری نکالا وقت پر غصہ گھڑی دیوار پر ماری یہ گنبد جیسی پگڑی میں بندھی ہے سوچ درباری کئی آتے ہیں جاتے ہیں اجی کاہے کی غم خواری ہمارے گاؤں کا موسم درختوں کی ریا کاری چھپایا ہے بہت خود کو دکھائی ہے سمجھ داری بہت ہی تنگ ہے ہم پر بدن کی چار دیواری

chalaai saans ki aari

41 views

غزل · Ghazal

نذر دیوار کر دئے گئے ہیں رنگ بے کار کر دئے گئے ہیں خاک سمجھیں گے ہم کو اہل نظر جتنے دشوار کر دئے گئے ہیں ہم بھی کیا سادہ لوح تھے لیکن کتنے ہشیار کر دئے گئے ہیں تیر تھے ڈوبتے ہوئے منظر آنکھ سے پار کر دئے گئے ہیں جیتنا کب ترا مقدر تھا ہم تجھے ہار کر دئے گئے ہیں جب سے دربار ہو گئے ہیں چوک چوک دربار کر دئے گئے ہیں آپ بیزار تھے نہیں ہم سے آپ بیزار کر دئے گئے ہیں

nazr-e-divaar kar diye gae hain

41 views

غزل · Ghazal

ادا پوری کہاں قیمت کری ہے ابھی تو آنکھ ہی میں نے بھری ہے کھلوں گا تم سے تب تم پر کھلے گا نظر آنا نہایت سرسری ہے میں اجرت پر بنا ہوں شاہزادہ یہ پہلو میں کرائے کی پری ہے مگر یہ آئنہ کہتا ہے مجھ سے تو میری قابلیت پر مری ہے یہاں پر سب برابر ہیں سبھی کے یہاں سب کو سبھی پر برتری ہے

adaa puuri kahaan qimat kari hai

40 views

غزل · Ghazal

جھوٹ کا بھاؤ کیا بڑھایا ہے ہر کوئی سچ خرید لایا ہے کانچ ہونا مرا جتایا ہے مجھ سے پتھر نے زخم کھایا ہے جس پہ مندر کا قرض باقی تھا تو نے منبر پہ لا بٹھایا ہے میں نکل جاؤں کعبے سے اچھا یہ ترے باپ نے بنایا ہے یہ بھی دکھ ہے کہ اس نے جاتے ہوئے مجھ سے پوچھا نہیں بتایا ہے شیخ زادی کا دل رکھے خاطر میں نے حوروں کا دل دکھایا ہے

jhuuT kaa bhaav kyaa baDhaayaa hai

40 views

غزل · Ghazal

یہ بھی سچ ہے کہ سر نہیں رہنا اس زباں نے مگر نہیں رہنا اب تو چپ ہوں کہ روٹھ جاؤ گے پھر مجھے یہ بھی ڈر نہیں رہنا میں بھی دے لوں گا حوصلہ خود کو تم بھی جاؤ اگر نہیں رہنا ہوں گے جب دیکھنے کے لائق ہم کوئی اہل نظر نہیں رہنا ہے خدا کا نظام خطرے میں اس بشر نے بشر نہیں رہنا

ye bhi sach hai ki sar nahin rahnaa

40 views

Similar Poets