Afzal Aaqil
kuchh baat hai milaa jo vafaadaar ki tarah
کچھ بات ہے ملا جو وفادار کی طرح اک با اصول و صاحب کردار کی طرح آئی بہار بھی تو اداکار کی طرح ہے سرخ پھول دیدۂ خونبار کی طرح بیدار ہر طرف ہیں تشدد کی آندھیاں اخلاص محو خواب ہے بیمار کی طرح گر گر کے بجلیاں بھی پریشان ہو گئیں مسکن کھڑا ہے آج بھی کہسار کی طرح دریا کے دو کناروں کا ممکن نہ تھا وصال موجیں کھڑی تھیں راہ میں دیوار کی طرح تیرا کرم بھی ایک ستم ہے مرے لیے لٹکا ہے سر پہ میرے وہ تلوار کی طرح عاقلؔ میاں یہ اہل سیاست کا دور ہے ملتے ہیں اب تو یار بھی اغیار کی طرح