Agha Naginwi
Agha Naginwi
Agha Naginwi
Ghazalغزل
ek kaif-e-sarmadi se kheltaa rahtaa rahun main
ایک کیف سرمدی سے کھیلتا رہتا رہوں میں بندگی میں بندگی سے کھیلتا رہتا ہوں میں رات دن زندہ دلی سے کھیلتا رہتا ہوں میں رنج و غم میں بھی خوشی سے کھیلتا رہتا ہوں میں آج کل اختر شماروں میں ہے میرا بھی شمار رات میں بھی روشنی سے کھیلتا رہتا ہوں میں موت میں ہی زندگی ہے مثل پروانہ مری شمع کی تابندگی سے کھیلتا رہتا ہوں میں طوق گردن سے ملا ذوق گرانباری مجھے لیکن اس محنت کشی سے کھیلتا رہتا ہوں میں بندۂ مزدور کی عزت بچانے کے لیے عز و جاہ قیصری سے کھیلتا رہتا ہوں میں بار خاطر بن گئی گو یار شاطر کی بساط لیکن اس پر سادگی سے کھیلتا رہتا ہوں میں اللہ اللہ میرا شوق جذب کامل دیکھنا فکر وحدت میں دوئی سے کھیلتا رہتا ہوں میں وہ مرے ایوان غم میں زینت گلدستہ ہے پھول کی افسردگی سے کھیلتا رہتا ہوں میں وہ یہ کہتے ہیں کہ فرصت میں بہل جاتا ہے دل اپنے احسن کاظمیؔ سے کھیلتا رہتا ہوں میں
jahaan mein koi haqiqat bhi be-hijaab nahin
جہاں میں کوئی حقیقت بھی بے حجاب نہیں عروس مرگ کے منہ پر مگر نقاب نہیں طلب ہے حسن حقیقی کی فصل گل بر دوش یہ وہ کتاب ہے جس میں خزاں کا باب نہیں اشارہ کن ہے حقیقت کا بحر بے پایاں تعینات کا حاصل بجز حباب نہیں یہ آبشار و گل و کوہسار و ماہ و نجوم مظاہرے ہیں مگر حسن با نقاب نہیں میں بے پیے تری آنکھوں کو بڑھ کے چوم نہ لوں رہین منت مے مستیٔ شباب نہیں فریب وہم ہے آغاؔ یہ خود فراموشی بہ ہوش باش نظر تیری کامیاب نہیں
basaae jaate hain ahl-e-junun se viraane
بسائے جاتے ہیں اہل جنوں سے ویرانے رموز مملکت حسن کوئی کیا جانے یہ کس کی بزم ہے آراستہ خدا جانے نہیں ہے شمع تو کیوں جل رہے ہیں پروانے ہے بندہ ہونے کے اظہار پر بشر مجبور پئے سجود بنیں مسجدیں کہ بت خانے نہ قیس دشت میں ہے اور نہ کوہ میں فرہاد پر ان کے نام سے گونج اٹھتے ہیں یہ ویرانے فزوں ہیں نغمۂ بلبل سے قہقہے گل کے کہ انتظام چمن اب کریں گے دیوانے دیار عشق میں برپا ہے انقلاب عظیم یہ دور وہ ہے کہ اپنے ہوئے ہیں بیگانے چھپا لیا رخ انور حنائی ہاتھوں سے ہمارے دل پہ جو گزری تری بلا جانے ستم ہزار ہوں ظالم مگر دلوں کو نہ توڑ ترے خیال سے آباد ہیں یہ کاشانے وہ حال غم مرا خود مجھ سے سن کے کہتے ہیں کہ سن چکے ہیں ہم ایسے ہزار افسانے ہے بادہ نوشی سے مستوں کو بعد مرگ بھی ربط کہ ان کی خاک سے یاں بن رہے ہیں پیمانے صنم سے حال دل زار کہہ تو دوں آغاؔ مگر میں جاؤں کہاں وہ اگر برا مانے
yaad aataa hai ki khud ko naujavaan samjhaa thaa main
یاد آتا ہے کہ خود کو نوجواں سمجھا تھا میں اس طلسم رنگ و بو کو گلستاں سمجھا تھا میں ہاں اسے فخر حسینان جہاں سمجھا تھا میں اس کا ملنا حاصل کون و مکاں سمجھا تھا میں اس صنم کو خود پہ جب تک مہرباں سمجھا تھا میں اس کے اطوار ستم کو شوخیاں سمجھا تھا میں ان کی نظروں میں نہاں جو بجلیاں سمجھا تھا میں ہر ادا کو التفات بے کراں سمجھا تھا میں میرے چہرے سے نمایاں تھا فشار ضبط غم آہ کو بھی شکوۂ جور بتاں سمجھا تھا میں رفتہ رفتہ اس نے بڑھ کر میرے دل کو خوں کیا جس خلش میں لذت پیہم نہاں سمجھا تھا میں حسن فانی گر نہیں عشق مجازی بھی نہیں چند روزہ شے تھی جس کو جاوداں سمجھا تھا میں دائمی فرقت نے آغاؔ میری آنکھیں کھول دیں اک جہنم ہے جسے باغ جناں سمجھا تھا میں
arz-e-matlab ne kiyaa aur bhi kuchh khvaar mujhe
عرض مطلب نے کیا اور بھی کچھ خوار مجھے جب بھی ملتے ہیں سنا دیتے ہیں دو چار مجھے شوق کرتا ہے اگر مائل رفتار مجھے روک لیتا ہے مرا طوق گراں بار مجھے چارہ گر کیسی دوا چھیڑ نہ بے کار مجھے چھوڑ بھی دے مری حالت پہ مرے یار مجھے دیکھتی ہے جو مری نرگس بیمار مجھے یاد رہتا نہیں اپنا کوئی آزار مجھے حسن خوابیدہ تری خواب گہ ناز میں آج لے کے آیا ہے مرا طالع بیدار مجھے محتسب عشق نہیں آئنہ یہ مجرم ہے تو کس الزام میں کرتا ہے گرفتار مجھے نام حق لے کے سوئے منزل مقصد ہوں رواں نہ تو وحشت ہے نہ خوف رسن و دار مجھے شب گئی آئی سحر شور اذاں ہے آغاؔ پھر کیا نعرۂ تکبیر نے بیدار مجھے
nashaat kam hai ki saamaan-e-dilkashi kam hai
نشاط کم ہے کہ سامان دل کشی کم ہے شریک بزم نہیں ہیں تو کیا تمہیں غم ہے خودی کا زور ہے احساس بندگی کم ہے اک انقلاب سے برہم نظام عالم ہے حیات واجب و ممکن کا ربط باہم ہے ہمارے دل کی تڑپ حاصل دو عالم ہے فریب جب سے محبت پہ ہو گیا غالب اک اضطراب ہے بے چین روح عالم ہے نتیجہ عیش مسلسل کا شوق ممنوعات عجب نہیں کہ یہ میراث ابن آدم ہے شجر نہال ہیں خنداں ہیں گل کھلیں کلیاں چمن میں جان تمنا کا خیر مقدم ہے یہ ہر گھڑی کی پریشاں خیالیاں آغاؔ تفکرات زمانہ سے ناک میں دم ہے چھپا سکا نہ محبت کے راز کو آغاؔ ہزار ضبط کیا پھر بھی آنکھ پر نم ہے





