
Aghaz Buldanvi
Aghaz Buldanvi
Aghaz Buldanvi
Ghazalغزل
جو تھا ریا سے پاک زمانہ کہاں گیا وہ دور زندگی کا سہانا کہاں گیا ہر چین پا کے کس لیے بے چین ہے بشر پاتا تھا وہ سکوں جو ٹھکانا کہاں گیا ماحول کیوں ہے آج گلستاں کا ماتمی وہ بلبلوں کا شور مچانا کہاں گیا آتے تھے جھیل پر جو پرندے کہاں گئے ان کا جو تھا وہ ٹھور ٹھکانہ کہاں گیا
jo thaa riyaa se paak zamaana kahaan gayaa
40 views
چاہتوں کا مری اثر بھی ہو آگ جو ہے ادھر ادھر بھی ہو روشنی کا پتا کرو یارو رات ہے تو کہیں سحر بھی ہو یہ نظارے جو دیکھے بھالے ہیں کچھ ہماری نئی نظر بھی ہو قید ہے جو کہیں دیواروں میں اس خوشی کی ہمیں خبر بھی ہو جشن ہے جو ادھر بہاروں کا وہ خوشی کا سماں ادھر بھی ہو زندگی کے سفر میں اے آغاز ہم سفر کوئی معتبر بھی ہو
chaahaton kaa miri asar bhi ho
40 views
لوگ ملتے بچھڑتے رہتے ہیں رشتے بنتے بگڑتے رہتے ہیں یہ نئے راستے ہیں چاہت کے آئے دن جو اکھڑتے رہتے ہیں غم نہ کر دل کے ٹوٹ جانے کا یہ چمن تو اجڑتے رہتے ہیں ہے زمانہ نئی روایت کا لوگ باہم جھگڑتے رہتے ہیں دل رفو کب تلک کرو گے تم کچے دھاگے ادھڑتے رہتے ہیں بہتے رہتے ہیں اشک آنکھوں سے اور گنہ میرے جھڑتے رہتے ہیں پیار جب بھی جتانا ہوتا ہے مجھ سے آغازؔ لڑتے رہتے ہیں
log milte bichhaDte rahte hain
40 views
تازہ بہ تازہ صبح کے اخبار کی طرح بیچا گیا آج بھی ہر بار کی طرح قاتل ہیں میری جان کا دشمن ہے وہ مگر ملتا ہے مجھ سے جو کسی غم خوار کی طرح ایک شے کہ جس کا نام ہے احساس ذہن میں پیہم کھٹکتا رہتا ہے اک خار کی طرح میں اپنی بے گناہی پہ خود اپنے آپ میں رہتا ہوں شرم سار گنہ گار کی طرح کرتے ہیں بات بات میں جذبوں کا مول تول کرتے ہیں لوگ پیار بھی بیوپار کی طرح چاہت بھی ان کی ہوتی ہے نفرت لیے ہوئے اقرار بھی وہ کرتے ہیں انکار کی طرح آغازؔ ہر ایک بزم میں ہر اک زبان پر ہے اس کا تذکرہ مرے اشعار کی طرح
taaza-ba-taaza subh ke akhbaar ki tarah
40 views
رات کے بعد سحر دیکھیں گے ہم دعاؤں کا اثر دیکھیں گے کیسے ہر حال میں خوش رہتا ہے ہم بھی اس کا یہ ہنر دیکھیں گے چھاؤں دیتا ہے سبھی کو اب تک آؤ وہ بوڑھا شجر دیکھیں گے حال پر سب نے جو چھوڑا ہے مجھے کیسے ہوتی ہے گزر دیکھیں گے کرکے آغازؔ سفر کا تنہا کیسے کٹتا ہے سفر دیکھیں گے
raat ke baad sahar dekheinge
40 views
نرم ریشم سی ملائم کسی مخمل کی طرح سرد راتوں میں تری یاد ہے کمبل کی طرح میں زمانے سے الجھ سکتا ہوں اس کی خاطر جو سجاتا ہے مجھے آنکھ میں کاجل کی طرح کوئی ساگر کہیں پیاسا جو نظر آئے تو ہم برستے ہیں وہیں ٹوٹ کے بادل کی طرح خوبصورت تھی یہ کشمیر کی وادی جیسی زندگی تیرے بنا لگتی ہے چمبل کی طرح شہر کی آب و ہوا نے مرے بچے چھینے میں اکیلا ہی رہا گاؤں کے پیپل کی طرح
narm resham si mulaaem kisi makhmal ki tarah
40 views





