Aghaz Burhanpuri
کیا سعیٔ دید کیجئے ایمن کی راہ میں انجام طور کھیل رہا ہے نگاہ میں کہنا بھی چاہوں کچھ تو مجال سخن کہاں ہے ناطقہ خموش تری بارگاہ میں جب دل جھکا ہے رشک مسیحا تری طرف کعبہ سرک گیا ہے کلیسا کی راہ میں آواز دی یہ کس نے حریم جمال سے ہو جاؤں جذب حسن حقیقت پناہ میں سب کچھ سجھا چکی ہے زمانے کی روکشی تم بھی شریک غم نہ ہو حال تباہ میں آغازؔ پیری کو بھی جوانی کو بھی سلام کیسا اب امتیاز سفید و سیاہ میں
kyaa sa'i-e-did kijiye aiman ki raah mein
40 views