Ahamd Raza Khan Barelvi
raah pur-khaar hai kyaa honaa hai
راہ پر خار ہے کیا ہونا ہے پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے کام زنداں کے کیے اور ہمیں شوق گلزار ہے کیا ہونا ہے جان ہلکان ہوئی جاتی ہے بار سا بار ہے کیا ہونا ہے پار جانا ہے نہیں ملتی ناؤ زور پر دھار ہے کیا ہونا ہے روشنی کی ہمیں عادت اور گھر تیرہ و تار ہے کیا ہونا ہے بیچ میں آگ کا دریا حائل قصد اس پار ہے کیا ہونا ہے ساتھ والوں نے یہیں چھوڑ دیا بے کسی یار ہے کیا ہونا ہے آخری دید ہے آؤ مل لیں رنج بے کار ہے کیا ہونا ہے دل ہمیں تم سے لگانا ہی نہ تھا اب سفر بار ہے کیا ہونا ہے کیوں رضاؔ کڑھتے ہو ہنستے اٹھو جب وہ غفار ہے کیا ہونا ہے