SHAWORDS
Ahmad Azeem

Ahmad Azeem

Ahmad Azeem

Ahmad Azeem

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

chhoTi chhoTi baaton par tum khuub tamaashaa karti ho

چھوٹی چھوٹی باتوں پر تم خوب تماشا کرتی ہو تم کو دیکھ کے کون کہے گا اک منصف کی بیٹی ہو یہ بھی اک کارن تھا تم سے اپنے راز چھپانے کا چاہے جتنا سمجھاؤ تم دنیا سے کہہ دیتی ہو وقت کے رہتے بیگ میں تم نے اپنے کپڑے رکھے نئیں گاڑی چھوٹ رہی ہے اب کیوں دیکھ کے مجھ کو روتی ہو دنیا کیا کیا سوچ رہی ہے ہم دونوں کے بارے میں میں کس کس کو بتلاؤں تم جلدی سے سو جاتی ہو ٹوکا ٹاکی بس اک حد تک ٹھیک نتیجہ دیتی ہے بچہ بگڑتا ہے گر اس پے بے مطلب کی سختی ہو

غزل · Ghazal

bichhaD ke donon ke zehnon pe bojh paDtaa hai

بچھڑ کے دونوں کے ذہنوں پہ بوجھ پڑتا ہے رہیں جو ساتھ تو آنکھوں پہ بوجھ پڑتا ہے پھلوں کے ہونے سے شاخیں فقط لچکتی ہیں پھلوں کے گرنے سے شاخوں پہ بوجھ پڑتا ہے تمہارے ذکر کی عادت ہوئی ہے ایسی انہیں کچھ اور بولیں تو ہونٹوں پہ بوجھ پڑتا ہے بس ایک چہرے کو سپنے میں دیکھنے کے لئے تمام عمر کی نیندوں پہ بوجھ پڑتا ہے عظیمؔ دور کے رشتوں کو دور رکھا کر وگرنہ پاس کے رشتوں پہ بوجھ پڑتا ہے

غزل · Ghazal

maanaa meri un se baatein hoti hain

مانا میری ان سے باتیں ہوتی ہیں لیکن تصویریں تصویریں ہوتی ہیں لوگوں سے اچھی تصویریں ہوتی ہیں جتنی چاہو اتنی باتیں ہوتی ہیں جھوٹے دلاسے مت دو میں یہ جانتا ہوں بیماروں سے کیسی باتیں ہوتی ہیں ہجر کے دن ایسے دن ہوتے ہیں جن میں راتوں کے آگے بھی راتیں ہوتی ہیں

غزل · Ghazal

sirf zinda hi nahin hosh sambhaale hue hain

صرف زندہ ہی نہیں ہوش سنبھالے ہوئے ہیں آپ کو دشت میں یعنی ابھی ہفتے ہوئے ہیں کون چاہے گا درخت اس کے ثمر بار نہ ہوں تو بنے اس لیے ہم خود کو مٹائے ہوئے ہیں یہ جو بچے ہیں فقط جھولا نہیں جھول رہے شاخ پے پھول کی مانند یہ لٹکے ہوئے ہیں ان درختوں کے فوائد کا تمہیں علم نہیں ان کو مت کاٹو یہ بابا کے لگائے ہوئے ہیں میں بہت خوش تھا مجھے اس نے بلایا ہے عظیمؔ پر یہاں جتنے ہیں سب اس کے بلائے ہوئے ہیں

غزل · Ghazal

agar vo puchhe koi baat kyaa buri lagi hai

اگر وہ پوچھے کوئی بات کیا بری لگی ہے زیادہ سوچنا مت بول دینا جی لگی ہے بری لگی تری موجودگی کلاس میں آج کہ میرے بولے بنا تیری حاضری لگی ہے اسے مناتے مناتے میں روٹھنے لگا تھا پھر اس نے پوچھ لیا فلم کون سی لگی ہے اے موت ٹھہر ذرا صبر کر قطار میں دیکھ کہ تجھ سے آگے بہت آگے زندگی لگی ہے گھڑی میں وقت گھٹاتے ہوئے میں بھول گیا کہ یار اس کی بھی دیوار پر گھڑی لگی ہے

غزل · Ghazal

koi na Duube main yuun sahaare banaa rahaa huun

کوئی نہ ڈوبے میں یوں سہارے بنا رہا ہوں جہاں بھنور ہے وہیں کنارے بنا رہا ہوں یہ غزلیں سن کے تو اپنے اوپر غرور مت کر میں واہ واہ ہی کو استعارے بنا رہا ہوں یہ میں ہی کہتا تھا پھول مت توڑ پر یہ گجرے میں اس کے غصے کے ڈر کے مارے بنا رہا ہوں سوا ہمارے کوئی نہ سمجھے ہماری باتیں یوں گفتگو کے نئے اشارے بنا رہا ہوں جو تم نے تصویر بھیجی میری ادھوری سی تھی سو اس کے چاروں طرف شرارے بنا رہا ہوں مجھے بڑھانا ہے چاند تاروں کے مرتبے کو سو اس کے ماتھے پہ چاند تارے بنا رہا ہوں

Similar Poets