
Ahmad Mujaddadi Asad
Ahmad Mujaddadi Asad
Ahmad Mujaddadi Asad
Ghazalغزل
دھیرے دھیرے آپ کا گلشن میں آنا یاد ہے چوری چوری مجھ سے وہ آنکھیں چرانا یاد ہے چلتے چلتے راہ میں اور باتوں باتوں میں کبھی وہ ترا نظریں ملا کر مسکرانا یاد ہے مٹ نہیں سکتی کبھی دل سے ادائے دل نواز ناز سے مانند آہو آنا جانا یاد ہے ہائے وہ مستی کا عالم وہ نرالی شوخیاں حسن کی جادوگری کا وہ زمانہ یاد ہے جن غلط انداز نظروں سے کبھی دیکھا مجھے دل ہوا تیر نظر کا بس نشانہ یاد ہے کالے بادل کی طرح لہرا گئی زلف سیاہ اور وہ ساون گھٹا کا کانپ جانا یاد ہے وہ جو گزرا تھا کبھی اس انجمن میں اے اسدؔ زندگی کا بیش قیمت وہ زمانہ یاد ہے
dhire dhire aap kaa gulshan mein aanaa yaad hai
40 views
اک حسیں دور سے گزرا تھا کبھی یاد نہ کر کام ہمت سے لئے جا اسے برباد نہ کر آزما ضبط و فغاں نالۂ و فریاد نہ کر یاد ماضی سے دل خستہ کو آباد نہ کر ہم نے مانا کہ ستم تجھ پہ ہوا ہے لیکن دل بیتاب کو شرمندۂ فریاد نہ کر ہوں بہانہ تجھے آنسو تو سلیقے سے بہا ایسے نایاب گہر مفت میں برباد نہ کر اے اسدؔ ہو نہ اثر وقت کے بہکانے کا اب کسی اور کو دل میں کبھی آباد نہ کر
ik hasin daur se guzraa thaa kabhi yaad na kar
40 views
جنون دل کو کسی کا بھی اعتبار نہیں ہوں بیقرار مگر خواہش قرار نہیں ہے کائنات میں ہم سے فروغ رنگ بہار مگر حیات میں اپنی ذرا بہار نہیں نہ چھیڑ پیار کے نغمے اے عندلیب چمن کہ رنگ گلشن ہستی کا سازگار نہیں طفیل ہے یہ انہیں کا کہ ہم کو تحفہ میں وہ بے حساب ملے غم کہ کچھ شمار نہیں اسدؔ کھلا نہ کبھی راز زندگی اب تک یہ عقدہ کھولے کوئی ایسا ہوشیار نہیں
junun-e-dil ko kisi kaa bhi eatibaar nahin
40 views
غم زیست ہم سے لیا جائے نا بنا غم بھی لیکن جیا جائے نا تری مست آنکھوں نے بخشا سرور کہ اب مے کا پیالہ پیا جائے نا عنایت ہے غیروں پہ ہر دم تری ستم بھی تو ہم پر کیا جائے نا کرم چاہتا ہوں فقط تجھ سے میں سہارا کسی کا لیا جائے نا دئیے زخم یادوں نے دل پر بہت جواب ہم سے لیکن دیا جائے نا اسدؔ آپ کی ہے نرالی ادا کہ دشمن کو بھی دم دیا جائے نا
gham-e-zist ham se liyaa jaae naa
40 views
میری تقدیر کو کچھ اور نکھر جانے دے ٹھہر اے کاتب تقدیر سنور جانے دے دم تو لے گردش ایام ستم کیوں اتنا منزل عشق کو بس پار تو کر جانے دے دیکھنے والوں پہ پابندیٔ دیدار ہے کیوں رخ مہتاب نما تک تو نظر جانے دے اشک آنکھوں سے نکلنے کو مچلتے ہیں مرے چشم محزوں کے یہ موتی ہیں بکھر جانے دے کالی بدلی میں نظر آنے دے مہتاب ذرا زلف پر پیچ سے شانوں کو سنور جانے دے زخم گہرے ابھی کھانے کی ہے طاقت باقی تیر جتنے ہیں پئے قلب و جگر جانے دے شب تاریک میں مدت سے بھٹکتا ہے اسدؔ یک قدم اس کو ذرا سوئے سحر جانے دے
meri taqdir ko kuchh aur nikhar jaane de
40 views
دل کی محفل سجائے بیٹھے ہیں در پہ نظریں لگائے بیٹھے ہیں خوشی ملنے کی غم جدائی کا ہم تو سب کچھ بھلائے بیٹھے ہیں کوئی خوف خدا نہ خوف رسول ذہن و دل ڈگمگائے بیٹھے ہیں اک فریبی سے دل لگا کر ہم کیا تماشہ بنائے بیٹھے ہیں جب نہ سمجھے تلاطم دوراں دل کو اپنے گنوائے بیٹھے ہیں پیار میں اڑ گئے ہیں ہوش اسدؔ ہم تو خود کو بھلائے بیٹھے ہیں
dil ki mahfil sajaae baiThe hain
40 views





