
Ahmad Nesar
Ahmad Nesar
Ahmad Nesar
Ghazalغزل
خود پر نہیں طیور کی اب دسترس کہ بس مستی میں جا رہے ہیں یوں سوئے قفس کہ بس خواہش کہاں عروج سے اتری ہے زیر خاک مضبوط دور سے اسے اس طرح کس کہ بس مہکا ہوا وجود ہے روشن ہے میری خاک ایسے رواں ہے پھر تیری بوئے نفس کہ بس ہر دم ترے خیال نے نیلا کیا بدن سب زہر کھینچ لے مرا اس طرح ڈس کہ بس مکتوب میں لکھا ہے مجھے اب شفا ملے بیمار کو عطا ہو کبھی ایک مس کہ بس آنکھیں لہو لہان تھیں چہرے بھی تھے ملال اس طرح دیدنی تھا وہ سولہ برس کہ بس اک عمر کی تھکان سے ہے جسم شل نثارؔ منظور اب نہیں مجھے بھانگ و جرس کہ بس
khud par nahin tuyur ki ab dastaras ki bas
40 views
تو خود کو دیکھ لے کتنا دراز قامت ہے ترا فلک تو مرے چاند کی بدولت ہے کسی بھی حال میں ہم خرچ کر نہیں سکتے ہمارا درد تری دی ہوئی امانت ہے مرا وجود ابھی برف کی مثال نہیں بچی ہوئی ابھی اس راکھ میں تمازت ہے جواب اینٹ کا دینا پڑے گا پتھر سے یہی ہے رسم یہاں کی یہی روایت ہے عجیب چار طرف ہے فضا میں خاموشی یہ کیا مقام ہے کس قہر کی علامت ہے نہیں چراغ تو جگنو کا قافلہ بھیجے بہت سیاہ ہے رستہ بہت ضرورت ہے نثارؔ تیز قدم ہے بہت یہ دنیا تو کہ اب پڑاؤ بھی کرنا تجھے قیامت ہے
tu khud ko dekh le kitnaa daraaz-qaamat hai
40 views
ہوا کیا حشر برپاتی نہیں ہے مری سانسوں کو مہکاتی نہیں ہے یہاں جذبوں کے سوتے پھوٹتے ہیں ندی آنکھوں کی برساتی نہیں ہے کوئی بھی صبح جو ہمدرد نکلے کوئی بھی شام جو گھاتی نہیں ہے مسلسل گھومنے محور پہ اپنے یہ دنیا پھر بھی چکراتی نہیں ہے مکیں سارے ہیں سب کا آشیانہ کسی کا ملک یہ ذاتی نہیں ہے کٹا اک پیڑ آنگن کا ہمارے نحوست گھر سے اب جاتی نہیں ہے بڑا احسان گردش نے کیا یہ ہمارے ساتھ اکتاتی نہیں ہے
havaa kyaa hashr barpaati nahin hai
40 views
اس سے رشتہ تھا ایک دو پل کا اور سالم ہے خوف دل دل کا کتنے طوفان جذب کرتا ہے پیڑ پھر بھی ہرا ہے جنگلے کا آ گئے بوریا نشینوں میں دل مرا ہو گیا ہے مخمل کا ہر طرف تھا نشور کا عالم آ گئے گھر تو جی ہوا ہلکا جب سے آنکھوں میں بجھ گئے سپنے پھر کبھی اشک بھی نہیں چھلکا کوئی موسم ہو وہ برس جائے ایک ٹکڑا ہے شوخ بادل کا یہ زمانہ نثارؔ ہے اس پر خوف جس کو نہیں ہے مقتل کا
us se rishta thaa ek do pal kaa
40 views
یہ کائنات تو ہے پٹارا فقیر کا ہوتا نہیں غروب ستارا فقیر کا دنیا مرید بن کے کھڑی ہے مگر ہنوز فاقہ میں ہو رہا ہے گزارا فقیر کا صدقے میں مل گئیں تھیں دعائیں فقیر سے چمکے گا تو حیات ستارا فقیر کا ٹھوکر میں اس کو رکھنا ہی کار ثواب ہے دنیا تو ہے جناب اتارا فقیر کا یہ کیفیت بیان میں آتی نہیں نثارؔ جب گونجتا ہے ذہن میں نعرہ فقیر کا
ye kaaenaat to hai piTaaraa faqir kaa
40 views
بجھتی آنکھوں سے مری خواب کہاں جاتا ہے اب مجھے لے کے یہ سیلاب کہاں جاتا ہے روح تو کب سے پریشاں ہے نمو کی خاطر مشت بھر خطۂ شاداب کہاں جاتا ہے اپنی ہستی میں تو طوفان کھنچے آتے ہیں ہے جو پاؤں میں وہ گرداب کہاں جاتا ہے اس کی تقدیر میں لکھا ہے نمی میں رہنا چھوڑ کر آب کو سرخاب کہاں جاتا ہے اپنی تہذیب کا ہم پاس بہت رکھتے ہیں غصے میں لہجۂ آداب کہاں جاتا ہے جاگنا میری نگاہوں کا مقدر ہے نثارؔ آنکھ سے جلوۂ مہتاب کہاں جاتا ہے
bujhti aankhon se miri khvaab kahaan jaataa hai
40 views





