Ahmad Razi Bachhrayuni
Ahmad Razi Bachhrayuni
Ahmad Razi Bachhrayuni
Ghazalغزل
لگتی ہیں گالی بلڈنگیں ساری خیالی بلڈنگیں تم بھی نہ ٹھہرو گے یہاں کہتی ہیں خالی بلڈنگیں میرا پتہ آسیب جاں جن بھوت والی بلڈنگیں سڑکوں پہ سو جاتا ہوں میں منحوس کالی بلڈنگیں چلتی ہوا کے سامنے ٹھہریں مثالی بلڈنگیں
lagti hain gaali buildingein
40 views
خون کی ہر بوند پتھر ہو چکی زندگی خطرے سے باہر ہو چکی آندھیوں کی زد پہ اے ریگ رواں بے گھری تیرا مقدر ہو چکی میں نکل آیا حصار جسم سے سرد جب شعلوں کی چادر ہو چکی احتیاطوں سے بھی کچھ حاصل نہیں اب تو یہ مٹی بھی بنجر ہو چکی سایۂ عکس نوا بھی مٹ گیا دھوپ بھی مٹھی برابر ہو چکی
khuun ki har buund patthar ho chuki
40 views
من کے برگد تلے انگاروں کی مالا بھی جپی مجھ سے گوتم کی طرح آگ میں چمپا نہ کھلی رات تنہائی نے کمرے میں جو کروٹ بدلی نیند آنکھوں کو کسی سانپ کے پھن جیسی لگی میرے ہی سانس سے میرے ہی بدن کی چادر کون سمجھائے کسے آئے یقیں کیسے جلی اس بھرے شہر میں اپنایا کسی نے نہ جسے میں نے دیکھا تو رضیؔ لاش وہ میری نکلی
man ke bargad tale angaaron ki maalaa bhi japi
40 views





