SHAWORDS
Ahmad Sajjad Babar

Ahmad Sajjad Babar

Ahmad Sajjad Babar

Ahmad Sajjad Babar

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

پھڑپھڑاتا ہوا پرندہ ہے مان لو کہ دعا پرندہ ہے اس کڑی دھوپ میں مرے ہم راہ ریت آنسو ہوا پرندہ ہے خواہشوں کا سفر نہیں رکتا یہ عجب بھاگتا پرندہ ہے جھیل سوکھی تو وہ پلٹ آیا دل کے ہاتھوں مڑا پرندہ ہے موت اس کو کہو بجا لیکن اصل میں تو اڑا پرندہ ہے آنے والی بہار ہے بابرؔ میری چھت پر رکا پرندہ ہے

phaDphaDaataa huaa parinda hai

40 views

غزل · Ghazal

نہ فیصلہ تمہارا ہے نہ فیصلہ ہمارا ہے یہ وقت کے قزاق نے چھپا کے تیر مارا ہے فقیہ شہر زندگی کی آنکھ کا جو نور تھا وہ میں نے تیرے آستاں پہ خواب لا کے وارا ہے ستار گاں کی بزم میں اداس چاند دیکھنا نہ جانے کیسا خواب ہے نہ جانے کیا اشارہ ہے ہمیں یہ خواب تتلیاں تلاشنا ہیں عمر بھر کہ ہاتھ خالی نکلے ہیں چراغ ہے نہ تارہ ہے پس غبار وقت یوں پکارتا ہے کون یہ کہ ہجر و غم کا سلسلہ بتاؤ کیوں گوارا ہے سجادؔ بھی ملول ہے کہ قافلہ ہے شام کا فلک پہ ایک چاند ہے جو آخری سہارا ہے

na faisla tumhaaraa hai na faisla hamaaraa hai

40 views

غزل · Ghazal

بجھتی ہوئی آنکھوں کا اکیلا وہ دیا تھا ہجراں کی کڑی شب میں اذیت سے لڑا تھا رکتا ہی نہیں تجھ پہ نگاہوں کا تسلسل کل شام ترے ہاتھ میں کنگن بھی نیا تھا اک چشم توجہ سے ادھڑتا ہی گیا تھا وہ زخم کہ جس کو بڑی محنت سے سیا تھا برگد کے اسی پیڑ پہ اتریں گے پرندے سیلاب زدہ گھر کے جو آنگن میں کھڑا تھا درویش کی کٹیا کے یہ لاشے پہ بنی ہے ویران شکستہ سی حویلی پہ لکھا تھا تصویر میں اس کو ہی سر بام دکھایا مزدور زمانے کے جو پاؤں میں پڑا تھا وہ زخم جدائی کا بھلا کیسے دکھے گا ملبہ جو مرے جسم کا اندر کو گرا تھا بابرؔ ہو کہ بہکا ہوا جھونکا یا ستارہ تیری ہی گلی میں ہمیں جاتا وہ ملا تھا

bujhti hui aankhon kaa akelaa vo diyaa thaa

40 views

غزل · Ghazal

آنکھ رکھے ہوئے ستارے پر کشتیاں جا لگیں کنارے پر وقت پڑنے پہ آزما لینا جان دے دیں گے اک اشارے پر موڑ پر اس نے مڑ کے دیکھا تھا جی رہے ہیں اسی سہارے پر جھیل آنکھوں میں سرمگیں آنسو چاند بے خود تھا اس نظارے پر لب و رخسار آتشیں اس کے شبنمی رقص تھا شرارے پر اوٹ میں پھر چھپا لیا ماں نے لاش ماں کی گری دلارے پر شہر سارا چھتوں پہ تھا بابرؔ چاند اترا تھا پھر چوبارے پر

aankh rakkhe hue sitaare par

40 views

غزل · Ghazal

جس جگہ آگہی مقید ہے اس جگہ زندگی مقید ہے بجھ رہے ہیں گلاب سے چہرے کیا یہاں تازگی مقید ہے چاند جس کا طواف کرتا تھا اب وہاں خاک سی مقید ہے ایک عرضی لئے میں حاضر ہوں منصفا روشنی مقید ہے خاک کربل میں آج بھی لوگو اک عجب تشنگی مقید ہے کچے گھر کے نصیب میں بابرؔ جا بجا خستگی مقید ہے

jis jagah aagahi muqayyad hai

40 views

غزل · Ghazal

پھول خوشبو ان پہ اڑتی تتلیوں کی خیر ہو سب کے آنگن میں چہکتی بیٹیوں کی خیر ہو جتنے میٹھے لہجے ہیں سب گیت ہوں گے ایک دن میٹھے لہجوں سے مہکتی بولیوں کی خیر ہو چنریوں میں خواب لے کر چل پڑی ہیں بیٹیاں ان پرائے دیس جاتی ڈولیوں کی خیر ہو بارشوں کے شور میں کیوں جاگتے ہیں درد بھی صحن جاں میں رقص کرتی بدلیوں کی خیر ہو رخت دل کو تھام کر وہ آ گئی ہیں ریت پر خواہشوں کی خیر ہو ان پگلیوں کی خیر ہو اب کبوتر فاختائیں جا چکی ہیں گاؤں سے اے خداوند پیڑ کی اور بستیوں کی خیر ہو رات ہے بابرؔ کھڑی سیلاب کا بھی زور ہے ساحلوں کی مانجھیوں کی کشتیوں کی خیر ہو

phuul khushbu un pe uDti titliyon ki khair ho

40 views

Similar Poets