
Ahmad Tanvir
Ahmad Tanvir
Ahmad Tanvir
Ghazalغزل
mire labon pe to barson se ik sadaa bhi nahin
مرے لبوں پہ تو برسوں سے اک صدا بھی نہیں یہ کیسی چیخ تھی گھر میں تو دوسرا بھی نہیں تری کتاب میں رکھی تھی تتلیاں جس نے وہ میں ہی تھا یہ بتانے کا حوصلہ بھی نہیں وہ احتیاط سے خود کو سنبھالے رکھتا ہے میں ٹوٹ پھوٹ گیا اس کو کچھ ہوا بھی نہیں ذرا سی بات پہ خنجر نکال لیتا ہے کسی کو عشق محبت سے واسطہ بھی نہیں ہمارے عہد کے بچوں کا خاص تحفہ ہے جو زخم خشک بھی پوری طرح ہرا بھی نہیں
apni hi aavaaz ke qad ke baraabar ho gayaa
اپنی ہی آواز کے قد کے برابر ہو گیا مرتبہ انساں کا پھر بالا و برتر ہو گیا دل میں در آیا تو مثل گل معطر ہو گیا میرے شعروں کا سراپا جس کا پیکر ہو گیا ڈھلتے سورج نے دیا ہے کتنی یادوں کو فروغ چاند یوں ابھرا کہ ہر ذرہ اجاگر ہو گیا اب تو اپنے جسم کے سائے سے بھی لگتا ہے ڈر گھر سے باہر بھی نکلنا اب تو دوبھر ہو گیا گونجتا ماحول وحشی واہمے جنگل سفر اف یہ کالی رات جو میرا مقدر ہو گیا ہائے وہ اک اشک جس کی کوئی منزل ہی نہیں ہائے وہ اک بے زباں جو گھر سے بے گھر ہو گیا آپ سے ہم کیا کہیں شہر نگاراں کا مزاج جو بھی اس ماحول میں آیا وہ پتھر ہو گیا کیا ہوئیں فکر و تصور کی ترے رعنائیاں حادثہ ایسا بھی کیا تنویرؔ تم پر ہو گیا
jaane kaisi baadalon ke darmiyaan saazish hui
جانے کیسی بادلوں کے درمیاں سازش ہوئی میرا گھر مٹی کا تھا میرے ہی گھر بارش ہوئی دہمکیٔ اوراق میں کل شب جو اس کا خط ملا ننگے پاؤں گھاس پر چلنے کی پھر خواہش ہوئی جن کی بنیادیں ہی اپنے پاؤں پر گرنے کو تھیں ان گھروں کی ریشمی پردوں سے آرائش ہوئی میرے خوں کا ذائقہ جب دوستوں نے چکھ لیا جسم کے پھر ایک ایک قطرے کی فرمائش ہوئی





