
Ahmad Zohaib
Ahmad Zohaib
Ahmad Zohaib
Ghazalغزل
اجلی دھوپ میں چلنے والو شاد رہو محنت کر کے پلنے والو شاد رہو اب روشن ہیں منظر شوخ ہیں نظارے منظر میں رنگ بھرنے والو شاد رہو عشق محبت کرنا ویسے مشکل ہے پھر بھی کوشش کرنے والو شاد رہو اپنے آپ سنبھلنا اچھی عادت ہے ٹھوکر ٹھوکر گرنے والو شاد رہو حق تو پھر بھی حق ہے غالب آئے گا حق کی خاطر لڑنے والو شاد رہو قصے میں کردار بدلتے ہیں پل میں ہر کردار میں ڈھلنے والو شاد رہو اپنی خوشی سے جینا مشکل ہوتا ہے اپنی خوشی سے مرنے والو شاد رہو
ujli dhuup mein chalne vaalo shaad raho
40 views
کٹھن ہونے کو ہے جو شوق کا ہر مرحلہ صاحب ذرا سوچیں کہ لاحق کیا ہے ہم کو عارضہ صاحب کسی بھی جھوٹ پر چپ سادھنا میرا ہوا مشکل یہی مشکل ہے میری اور میرا مسئلہ صاحب سناؤں قصہ کیا میں حضرت انسان کا پل میں بہت صدیوں کا ہے اور ہے قدیمی واقعہ صاحب میرا مطلب انہی سے جو ہوس کے بس پجاری ہیں نہیں ان سے ہمارا دور کا بھی واسطہ صاحب کسی منزل کسی رستے پہ کوئی دوش ہی کب ہے ہے لوٹا رہبروں نے بس ہمارا قافلہ صاحب
kaThin hone ko hai jo shauq kaa har marhala saahab
40 views
نہ آیا کبھی میں ترے آستاں پر بھٹکتا رہا بس یہاں اور وہاں پر تری یاد نے دل تو روشن کیا تھا لگایا مگر قفل میری زباں پر کبھی فکر فردا کبھی یاد ماضی ہر اک دن نیا بار مجھ ناتواں پر سنائی سر انجمن جو تھی تو نے کوئی شخص رویا تھا اس داستاں پر اسے شاعری تم کہو تو کہو پر کہے شعر میں نے ہیں دل کی فغاں پر زوہیبؔ ہم مشقت سے گھبرائے کب تھے مگر دل دکھی ہے تو کار زیاں پر
na aayaa kabhi main tire aastaan par
40 views
شور سارا مرا سمو لے گی خامشی ایک روز بولے گی اک اداسی بھی جاں کی دشمن ہے بال وحشت بھی اپنے کھولے گی وصل کی یاد کے سہارے ہی ہجر میرا اکیلے رو لے گی تیرے دل نے مجھے پکارا ہے کیا تو اس سے بھی جھوٹ بولے گی میری قسمت میں نیند ہے ہی نہیں تیرا کیا ہے تو دن میں سو لے گی میں دوبارہ تجھے ملوں گا نہیں لاکھ تو دل اگر ٹٹولے گی
shor saaraa miraa samo legi
40 views
میری زندگی ہو تم یعنی اجنبی ہو تم آگہی سبھی کچھ ہے عشق و آگہی ہو تم تیرا ہو چکا ہوں میں میری ہو چکی ہو تم مر رہا ہوں میں غم سے اور ہنس رہی ہو تم پہلی پہلی نیندوں کا خواب آخری ہو تم مجھ پہ لمس واجب ہے دور کیوں کھڑی ہو تم مڑ کے دیکھنا بے سود ساتھ کب چلی ہو تم خود پہ ہنستی رہتی ہو کتنی سر پھری ہو تم میں گلے سے لگ جاؤں کتنا سوچتی ہو تم
meri zindagi ho tum
40 views
ہوا کتنا مشکل وفادار ہونا کہ پڑتا ہے اس میں بھی بس خوار ہونا اچنبھے سے خالی نہیں بات یہ بھی دیا جس نے غم اس کا غم خوار ہونا عجب دور میں سانس ہم لے رہے ہیں کہ تکلیف دیتا ہے بیدار ہونا قیامت سے کم تو نہیں میرے دل کا خدا کی قسم تجھ سے بیزار ہونا نبھانے کا یارا نہیں ہے تو سن لو کسی کا تم اب نہ اے یار ہونا تجھے اس کی طاقت کا اندازہ کب ہے قلم نے بھی سیکھا ہے تلوار ہونا زوہیبؔ اس لیے کام کرتا ہوں ہر پل فراغت کا مطلب ہے بے کار ہونا
huaa kitnaa mushkil vafaadaar honaa
40 views





