SHAWORDS
A

Ahmar Gorakhpuri

Ahmar Gorakhpuri

Ahmar Gorakhpuri

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

کھیل کر سلسلۂ گردش ایام کے ساتھ زندگی ہم نے گزاری بڑے آرام کے ساتھ سن رہا ہوں دل برباد کے افسانے میں آپ کا نام بھی آیا ہے مرے نام کے ساتھ شکر صد شکر کہ مدت پہ تجھے شکوہ طراز یاد تو آیا کوئی سیکڑوں الزام کے ساتھ کم نگاہی سے تری بزم طرب میں ساقی دیکھ آنکھیں نہ چھلک جائیں کہیں جام کے ساتھ تیری یادوں میں گزرتے ہوئے لمحوں کی تھکن لطف آغاز بھی لائی غم انجام کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے اجالوں پہ اندھیروں کا اثر صبح بدنام نہ ہو جائے کہیں شام کے ساتھ اس زمانے میں گلے ملتے ہوئے دیکھا ہے روش خاص کو ہم نے روش عام کے ساتھ ہم بھی کھیلے ہیں لب شاہد مے سے احمرؔ جرعہ کش ہم بھی رہے ہیں کبھی خیامؔ کے ساتھ

khel kar silsila-e-gardish-e-ayyaam ke saath

42 views

غزل · Ghazal

چمن میں پھولوں کا دامان تار تار بھی دیکھ بہار دیکھ چکا حاصل بہار بھی دیکھ اسیر صبح طرب شام سوگوار بھی دیکھ گزرتے لمحوں کا اک اور شاہکار بھی دیکھ مہہ‌ و نجوم کے جلوؤں سے کھیلنے والے فضا میں پھیلا ہوا رنگ انتشار بھی دیکھ ترے خیال سے آگے تری نظر سے پرے جو پل رہے ہیں وہ لمحات خلفشار بھی دیکھ نکل کے مرمریں محلوں کے سرد خانوں سے تپا تپا سا غریبوں کا ریگ زار بھی دیکھ بہار غنچہ و گل سے نظر ہٹا کے ذرا سسکتی قوم کے زخموں کا لالہ زار بھی دیکھ بنام امن لئے اسلحوں کے دامن سے جو اٹھ رہا ہے وہ طوفان شعلہ بار بھی دیکھ لہو لہو ہے جہاں جسم آشتی احمرؔ ستم رسیدوں کا وہ خوں چکاں دیار بھی دیکھ

chaman mein phulon kaa daamaan-e-taar-taar bhi dekh

41 views

غزل · Ghazal

نغمہائے اثر انداز کہاں سے لاؤں سوز میں ڈوبا ہوا ساز کہاں سے لاؤں بے کسی ہمدم و ہمراز کہاں سے لاؤں غم میں ڈوبی ہوئی آواز کہاں سے لاؤں عشق نے جس کے لئے قیس کا جامہ پہنا حسن خود بیں کے وہ انداز کہاں سے لاؤں اف وہ دزدیدہ نگاہوں کے حسیں نظارے اف وہ تیرے غلط انداز کہاں سے لاؤں موت ہے میرے لئے تلخیٔ انجام حیات تجھ کو اے لذت آغاز کہاں سے لاؤں سننے والوں کو جو خود رفتہ کرے اے احمرؔ اپنے شعروں میں وہ اعجاز کہاں سے لاؤں

naghma-haa-e-asar-andaaz kahaan se laaun

41 views

غزل · Ghazal

رہتے نہیں قابو میں سر راہ گزر پاؤں رکھتے ہیں ادھر پاؤں تو پڑتے ہیں ادھر پاؤں کاندھوں پہ لئے عمر کا بوسیدہ جنازہ جاتا ہے ادھر جسم بھی جاتے ہیں جدھر پاؤں ماحول ہی آئینۂ ہر عہد نوی ہے جھولے ہی میں آ جاتے ہیں بچے کے نظر پاؤں بڑھ جاتے ہیں کچھ اور بھی منزل کے تقاضے کھو دیتے ہیں جب حوصلۂ عزم سفر پاؤں پامال ہوئے ہیں کئی صحراؤں کے سینے یوں ہی نہیں آتے ہیں نظر خاک بسر پاؤں ہر چند بڑھی جاتی ہے لمحوں کی مسافت تھکتے نہیں بڑھتے ہوئے صدیوں کے مگر پاؤں ملتی نہیں گر ذہن کو ادراک کی آنکھیں رکھتے ہی نہیں فرش پہ محروم بصر پاؤں شہروں کی تجوری کبھی دیتی نہیں روٹی کھیتوں میں پہنچتے نہیں دہقاں کے اگر پاؤں سیدھی سہی لیکن رہ اخلاص پہ احمرؔ پڑتے ہیں زمانے کے بہ انداز دگر پاؤں

rahte nahin qaabu mein sar-e-raahguzar paanv

40 views

غزل · Ghazal

اجالا تیرہ شبی سے دبا دبا سا لگا چراغ جلتا ہوا بھی بجھا بجھا سا لگا تلاش امن میں لائی جہاں جہاں پرواز کھلی فضا تھی مگر دم گھٹا گھٹا سا لگا وفا کی راہ میں اپنا ہر ایک نقش قدم ہوائے کم نگہی سے مٹا مٹا سا لگا نگاہ شوق تجسس جدھر جدھر بھی گئی رخ حیات کا پردہ اٹھا اٹھا سا لگا جو دیکھا غور سے آئینۂ سیہ بختی خود اپنے جسم کا سایہ جدا جدا سا لگا زمانہ چڑھتی ہوئی دھوپ دیکھتا ہے مگر یہاں تو صبح کا سورج ڈھلا ڈھلا سا لگا تمام عمر بھگوتا رہا مری پلکیں وہ ایک لمحہ جو دل کو بھلا بھلا سا لگا یہی وہ دشت جنوں خیز ہے جہاں احمرؔ ہر ایک قافلۂ غم لٹا لٹا سا لگا

ujaalaa tira-shabi se dabaa dabaa saa lagaa

40 views

غزل · Ghazal

سرگرم سفر تو ہوں لیکن منزل کا نشاں معلوم نہیں اٹھنے کو تو اٹھے ہیں یہ قدم جانا ہے کہاں معلوم نہیں شادابی گلشن کا منظر ہے ذہن میں تو محفوظ مگر کب شاخ جلی کب پھول لٹے کب آئی خزاں معلوم نہیں کڑکن بھی فضا میں جاری ہے کوندے بھی لپکتے جاتے ہیں لہرا کے گرے گی کس کس پر یہ برق تپاں معلوم نہیں ہم دشت نشیں ہیں گلشن کی رنگین فضائیں کیا جانیں کانٹوں کی تو بستی دیکھی ہے پھولوں کا جہاں معلوم نہیں پیاسا ہے مری ہی طرح مگر پیاس اپنی بجھانے کی خاطر جاتا ہے کہاں دھیرے دھیرے یہ ابر رواں معلوم نہیں ہر سانس کے نازک وقفہ پر دم لے کے یہ چلتی ہے احمرؔ ٹھہرے گی مگر کس منزل پر یہ عمر رواں معلوم نہیں

sargarm-e-safar to huun lekin manzil kaa nishaan maalum nahin

40 views

Similar Poets