
Ahmed Meraj
Ahmed Meraj
Ahmed Meraj
Ghazalغزل
اندھیری شب میں اجالوں کو عام ہم کرتے اگر چراغ جلانے کا کام ہم کرتے ہمارے ذوق سفر کو نہ یہ گوارا ہوا کہ درمیان مسافت قیام ہم کرتے کئی گناہ جو تھے ان کے نام سے منسوب وہ چاہتے تھے انہیں اپنے نام ہم کرتے نہ ملتے روز اگر تو کبھی کبھی ہی سہی پڑوسیوں سے دعا و سلام ہم کرتے مزہ تھا جس میں وہ نیکی جناب شیخ نے کی جو بے مزہ تھا وہ کیا نیک کام ہم کرتے جو پیاسا ہوتا کوئی اہل کربلا کی طرح تو اس کی پیاس کو بڑھ کر سلام ہم کرتے
andheri shab mein ujaalon ko aam ham karte
40 views
آپ درد نہاں سمجھتے ہیں خامشی کی زباں سمجھتے ہیں در حقیقت وہ ایک صحرا ہے سب جسے گلستاں سمجھتے ہیں لذت ہجر کیسی ہوتی ہے عاشق نیم جاں سمجھتے ہیں میرے آنسو میں غور سے دیکھو سب جنہیں کہکشاں سمجھتے ہیں تیرے نزدیک فرد واحد ہے ہم جسے کل جہاں سمجھتے ہیں ان سے مت کہنا دل کی بات کبھی جو یقیں کو گماں سمجھتے ہیں ہے وہ لا انتہا خلائے بسیط ہم جسے آسماں سمجھتے ہیں کوئی سمجھے نہ سمجھے بات مری اسداللہ خاں سمجھتے ہیں
aap dard-e-nihaan samajhte hain
40 views
اک جھلک پانے کا ہر شخص تمنائی ہے دل نشیں خوب ترا جلوۂ زیبائی ہے بس یہی سوچ کے میں کرتا نہیں تیرا گلہ تیری رسوائی میں شامل مری رسوائی ہے جب بھی روتا ہوں اکیلے میں سکوں پاتا ہوں میرا غم بانٹنے والی مری تنہائی ہے لوگ دنیا کی طرف بھاگ رہے ہیں لیکن ان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ ہرجائی ہے
ik jhalak paane kaa har shakhs tamannaai hai
40 views
محبت کے جو تھے آداب سارے وہ منظر ہو گئے نایاب سارے مجھے خوش دیکھ کر ہوتے تھے جو خوش کہاں وہ کھو گئے احباب سارے ہیں کیوں ناراض ان سے ابر باراں پڑے ہیں کھیت جو بے آب سارے سنبھالے گا انہیں کب تک سمندر جو اس کے بوجھ ہیں گرداب سارے گزرتے ہیں گراں چشم کہن میں نئی تہذیب کے آداب سارے
mohabbat ke jo the aadaab saare
40 views





