Ahmed Shamim
ابھی رنج سفر کی ابتدا ہے ابھی سے جی بہت گھبرا رہا ہے دئے بجھنے لگے ہیں طاقچوں میں ہر اک شے پر اندھیرا چھا رہا ہے ہوا شاخوں میں چھپ کر رو رہی ہے نہ جانے کیسا موسم آ رہا ہے ٹھٹھرتی رت میں زخمی انگلیوں سے ہمیں دریا میں سونا ڈھونڈھنا ہے اسی امید پر بن باس کاٹیں ہمیں بھی ایک دن گھر لوٹنا ہے بہت چاہوں کہ میں بھی ہاتھ اٹھاؤں مرے ہونٹوں پہ لیکن بد دعا ہے
abhi ranj-e-safar ki ibtidaa hai
40 views