
Ahmed Sohail
Ahmed Sohail
Ahmed Sohail
Ghazalغزل
har ek aan vo ham se judaa saa kuchh to hai
ہر ایک آن وہ ہم سے جدا سا کچھ تو ہے ہماری ذات کے اندر خدا سا کچھ تو ہے وہ کیا ہے کچھ بھی نہیں اک ذرا سا کچھ تو ہے کبھی دعا تو کبھی بد دعا سا کچھ تو ہے لہو ہے برف ہے رقص شرر ہے کیا ہے یہ یہ جسم و جاں میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے سمجھ سکا نہ کوئی اب تلک کہ وہ کیا ہے وہ آئینہ نہ سہی آئینہ سا کچھ تو ہے تمام رنگ وہ موسم اڑا گیا لیکن کہیں تو شاخ پہ اب تک ہرا سا کچھ تو ہے
jaltaa thaa raat hi se dil-e-yaasman tamaam
جلتا تھا رات ہی سے دل یاسمن تمام رخصت تھی صبح تک یہ بہار چمن تمام جذبہ یہ رشک کا ہے اے عشاق کش مجھے بازار سے خرید لئے ہیں کفن تمام دل جل رہا ہے وحشت یاد غزال سے روشن ہیں اس چراغ سے دشت و دمن تمام مدت سے ہیں پڑے ہوئے چوکھٹ پہ یار کی پامال ہو چکے ہیں مرے روح و تن تمام کمزور ہے بہت دل بے ساختہ مرا اور شہر میں حکومت یک بت شکن تمام قتل بہار ہو گیا پھولوں کے دیس میں غنچوں نے چاک چاک کئے پیرہن تمام کس کی شب سیاہ بجھی کوہ طور پر کس آفتاب حشر پہ آیا گہن تمام
jalti dopahron mein ik saaya saa zer-e-ghaur hai
جلتی دوپہروں میں اک سایہ سا زیر غور ہے بجھتی آنکھوں میں کوئی چہرہ سا زیر غور ہے اب کے میں زندہ رہوں یا پھر سے مر جاؤں سہیلؔ فیصلہ سب ہو چکا تھوڑا سا زیر غور ہے اتنی ویرانی میں روشن ہو تری تصویر کب اس سلگتے جسم میں شعلہ سا زیر غور ہے جسم کے آئینے میں شعلہ سا رکھا ہے سوال پاؤں کی زنجیر کو حلقہ سا زیر غور ہے نیند اڑتی ہی رہی خوابوں کے جنگل میں سدا آسماں پر چاند کا خاکہ سا زیر غور ہے گر گئی تاریخ میرے ہاتھ سے احمد سہیلؔ اک نئے انسان کا خاکہ سا زیر غور ہے
shahr ko chhoD do aur gaanv ko jaao tum bhi
شہر کو چھوڑ دو اور گاؤں کو جاؤ تم بھی اس تعلق کے تکلف کو اٹھاؤ تم بھی آگ جنگل میں بھڑک جائے گی کل شام تلک آج بادل کو اداؤں سے لبھاؤ تم بھی دوسرے چہرے مجھے کم ہیں رفاقت کے لیے میری خاطر کوئی چہرہ تو سجاؤ تم بھی میں کہیں سبزۂ خود رو کی طرح اگ آؤں اور وہیں پھول کی صورت نکل آؤ تم بھی میرے ہاتھوں میں ترے نام کی کوئی ریکھا تیرے ہاتھوں میں نہ آئی ہو دکھاؤ تم بھی چاند کو روک دیا میں نے ان ہاتھوں میں سہیلؔ تم مجھے روک لو جادو یہ دکھاؤ تم بھی





