SHAWORDS
Ahmer Jalesari

Ahmer Jalesari

Ahmer Jalesari

Ahmer Jalesari

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

suraj Duubaa niklaa chaand

سورج ڈوبا نکلا چاند چھت پر آیا میرا چاند عید کا سب نے دیکھا چاند ہم نے دیکھا اپنا چاند دیوانے بے تاب ہوئے جب پردے سے جھانکا چاند اس کا دشمن کوئی نہیں سب کے لئے ہے پیارا چاند عہد جوانی میں اکثر ہوتا ہے شرمیلا چاند دیکھتے ہی اس کا چہرہ بادل میں چھپ جاتا چاند آپ کے آنگن میں احمرؔ پچھلی شب کیوں آیا چاند

غزل · Ghazal

talaash kar miri barbaadiyon kaa hal baabaa

تلاش کر مری بربادیوں کا حل بابا جو تو کہے گا کروں گا وہی عمل بابا طرح طرح کے یہ چولے نہ تو بدل بابا تجھے جو فیصلہ کرنا ہے کر اٹل بابا فقیر بن نہیں سکتا تو اوڑھ کر کملی خودی کو دل سے مٹا نفس کو کچل بابا نشے میں زر کے بہت پگڑیاں اچھالی ہیں ضرور تجھ کو ملے گا کیے کا پھل بابا تری تلاش میں دیر و حرم کو چھان لیا کہاں چھپا ہے تو آواز دے نکل بابا فریب حسن سے واقف نہیں ہے تو سن لے ڈگر ڈگر ہے کٹھن جائے گا پھسل بابا لگا ہے کون سا غم تجھ کو یہ بتا احمرؔ اداس کس لئے رہتا ہے آج کل بابا

غزل · Ghazal

sitam-shiaar zamaane pe khauf taari rakh

ستم شعار زمانے پہ خوف طاری رکھ ملے تو جب بھی شریفوں سے انکساری رکھ تجھے ملے گا ترا مدعا ضرور اک دن مگر ہے شرط مسلسل تلاش جاری رکھ یہ تیرا حسن کہیں حادثہ نہ بن جائے ستم ظریف زمانے سے ہوشیاری رکھ سفر پہ کب تجھے جانا پڑے یہ کیا معلوم جو کام وقت پہ آئے وہی سواری رکھ تجھے وقار بچانا ہے ہر طرح اپنا ہر ایک بات کی دنیا سے ہوشیاری رکھ انہیں کے فیض سے حل ہوں گی مشکلیں ساری خدا پرست بزرگوں کی جانکاری رکھ نہ جینے دیں گے وطن میں ترے تجھے احمرؔ منافقوں کے لئے تو بھی زعم داری رکھ

غزل · Ghazal

ye vo hasti hai kisi ki jo asiri mein nahin

یہ وہ ہستی ہے کسی کی جو اسیری میں نہیں جو فقیری میں مزہ ہے وہ امیری میں نہیں رحم فرمانا تری شان ہے اے رب قدیر ہاں ستم ڈھانا تری شان قدیری میں نہیں ضعف بڑھ جاتا ہے ہو جاتے ہیں اعضا کمزور عشق کا لطف جوانی میں ہے پیری میں نہیں جو انیسؔ آپ کو اللہ نے بخشا ہے کمال مرثیے کی وہ صفت رنگ دبیری میں نہیں باغ سے پھولوں کا رس چوس کے اڑ جاتی ہیں ہوشیاری یہ مگس میں ہے بھنبیری میں نہیں یہ حقیقت ہے نہیں صبر و قناعت جس میں وہ بھکاری ہے مگر رمزفقیری میں نہیں میں زمانے تجھے مشہور نہیں کر سکتہ کشف اتنا تو مری چشم بصیری میں نہیں

غزل · Ghazal

zamaane ke hamein dastur apnaane bhi hote hain

زمانے کے ہمیں دستور اپنانے بھی ہوتے ہیں مسائل ہوں اگر الجھے تو سلجھانے بھی ہوتے ہیں خوشی ملتی ہے جن کو ان کو غم پانے بھی ہوتے ہیں جو پاتے ہیں عروج ان پر زوال آنے بھی ہوتے ہیں غزل گوئی سے ہم بھی ربط رکھتے ہیں اسی باعث کبھی دل دوستوں کے ہم کو بہلانے بھی ہوتے ہیں ہماری عزت و ناموس کے جو لوگ ہیں خواہاں انہیں لوگوں میں شامل دوست دیوانے بھی ہوتے ہیں پناہیں دے کے جن کی زندگی ہم نے بچائی ہے کبھی ان باغیوں پر سنگ برسانے بھی ہوتے ہیں متاع حسن سے اللہ نے جن کو نوازا ہے انہیں کے واسطے کچھ لوگ دیوانے بھی ہوتے ہیں شمار ان کا خدا کے نام سے کرتے رہو احمرؔ کمال بندگی تسبیح کے دانے بھی ہوتے ہیں

Similar Poets