
Ahsan Aazmi
Ahsan Aazmi
Ahsan Aazmi
Ghazalغزل
سخت مشکل ہوا اب صاحب ایماں ہونا نہیں اس دور میں آسان مسلماں ہونا ہر قدم پر ہے یہاں راہزنوں کا خطرہ ہم تو بے بس ہیں خدایا تو نگہباں ہونا ختم ہوتا ہی نہیں سلسلۂ رنج و الم مشکلوں نے مری سیکھا نہیں آساں ہونا برکتیں رزق کی بڑھ جاتی ہیں اس کے دم سے باعث خیر ہے گھر میں کوئی مہماں ہونا دل میں ہو جاتا ہے طوفان قیامت برپا دوش محبوب پہ زلفوں کا پریشاں ہونا کاش کہہ دیں وہ محبت بھرے انداز میں پھر میرے احسنؔ ذرا اک بار غزل خواں ہونا
sakht mushkil huaa ab saahab-e-imaan honaa
40 views
فضائے صحن چمن آج سازگار نہیں یہاں بہار تو ہے رونق بہار نہیں ہو لاکھ حسن صفت آپ ذی وقار نہیں امیر شہر کی صف میں اگر شمار نہیں سکون چھن گیا آسائشوں کے ملنے سے ہے کون آج غموں سے جو ہمکنار نہیں تباہیوں کی طرف گامزن ہے یہ دنیا جہاں یہ امن ہو ایسا کوئی دیار نہیں ہو اس طرح سے نگاہ جہاں میں قدر مری خدائے وقت ہوں میں کوئی شہر یار نہیں ہر ایک چشم کرم میں فریب پنہاں ہے کوئی کسی کا حقیقت میں غم گسار نہیں ملے گی کیسے یہاں پر کسی کو پیار کی چھاؤں شجر خلوص کا اب کوئی سایہ دار نہیں اسے ہی کیفیت عشق کہتے ہیں شاید ہمیں سکون نہیں ہے انہیں قرار نہیں ابھی تو کم ہے ترے تیر نیم کش کا اثر ابھی یہ دل مرا طوفاں سے ہمکنار نہیں اب اتنی گر گئی یہ سطح دوستی اپنی ہمیں یقین نہیں ان کو اعتبار میں شب فراق ڈرائے نہ خواب وحشت سے ہمیں تو خواب کی باتوں کا اعتبار نہیں خدا کے خوف سے عاری ہے اس کا دل احسنؔ خطا پہ اپنی ذرا بھی جو شرمسار نہیں
fazaa-e-sahn-e-chaman aaj saazgaar nahin
40 views
نفرت کے اندھیروں کو مٹا کیوں نہیں دیتے لو شمع محبت کی بڑھا کیوں نہیں دیتے چاہت ہے اگر امن کی اے امن کے خوگر دیوار تعصب کی گرا کیوں نہیں دیتے کیوں کرتے ہو خوں عدل کا منصب کی اہانت منصف ہو تو مجرم کو سزا کیوں نہیں دیتے اے رہبرو تم جیسے ہو گفتار میں یکتا کردار کا سکہ بھی بٹھا کیوں نہیں دیتے طارق سی فتوحات کا ارمان اگر ہے ساحل پہ سفینے کو جلا کیوں نہیں دیتے بنتے ہو جو تم اسوۂ اسلاف کے پیرو دشنام طرازوں کو دعا کیوں نہیں دیتے صف میں جو عدو صورت احباب ہیں ان کے چہروں سے حجابات اٹھا کیوں نہیں دیتے کیوں جاتے ہو تم مجھ کو لگاتے ہوئے ٹھوکر پتھر ہوں تو رستے سے ہٹا کیوں نہیں دیتے احسنؔ تمہیں پانا ہے جو معراج بلندی سر رب کے حضور اپنا جھکا کیوں نہیں دیتے
nafrat ke andheron ko miTaa kyon nahin dete
40 views
دل میں ایمان تو ہے جذبۂ ایماں نہ سہی ہم مسلمان تو ہیں شان مسلماں نہ سہی رب کی رحمت کا سہارا ہی ہمیں کافی ہے آج دنیا میں کوئی اپنا نگہباں نہ سہی تین سو تیرہ نے یہ بدر میں پیغام دیا عزم و ایمان ہے تو جنگ کا ساماں نہ سہی ہم تو ہیں آج بھی تزئین گلستاں میں شریک اپنے ہاتھوں میں نہیں نظم گلستاں نہ سہی اسلحوں کی مرے قاتل کو ضرورت کیا ہے تیر مژگاں ہے بہت خنجر و پیکاں نہ سہی میں نے پلکوں پہ سجا رکھے ہیں اشکوں کے چراغ میرے ٹوٹے ہوئے چھپر میں چراغاں نہ سہی مال و زر پاس نہیں توشۂ الفت کے سوا کوئی سامان تو ہے زیست کا ساماں نہ سہی آج کی شب کسی بھوکے کی ضیافت کر دے گھر میں تیرے نہیں احسنؔ کوئی مہماں نہ سہی
dil mein imaan to hai jazba-e-imaan na sahi
40 views
بگڑی ہوئی جب ہوتی ہے تقدیر کسی کی کام آتی نہیں ایسے میں تدبیر کسی کی دل جیت لئے اپنوں کے بیگانوں کے پل میں گفتار میں ایسی بھی ہے تاثیر کسی کی یہ فاتح اقلیم تو ہو سکتی ہے لیکن دل جیت نہ پائی کبھی شمشیر کسی کی تہذیب و تمدن کا چلن اٹھ گیا شاید کرتا ہے کہاں اب کوئی توقیر کسی کی اللہ رے یہ عدل یہ میزان عدالت پاتا ہے سزا کوئی ہے تقصیر کسی کی سوئے ہیں ابھی اہل جنوں قید قفس میں پیروں میں کھنکتی نہیں زنجیر کسی کی ہر لب پہ فقط امن کی باتیں ہوں خدایا ہو وجہ فسادات نہ تقریر کسی کی یہ حسن کا اعجاز ہے یا نشۂ مے ہے ساغر میں اتر آئی ہے تصویر کسی کی شہرت کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل احسنؔ یوں ہی ہوتی نہیں تشہیر کسی کی
bigDi hui jab hoti hai taqdir kisi ki
40 views
کلیاں جہاں اداس ہوں گل میں پھبن نہ ہو یا رب کہیں بھی ایسی بہار چمن نہ ہو ہوتے نہیں ہیں معرکۂ عشق سر کبھی دل میں اگر جنوں نہ ہو سر پر کفن نہ ہو اک دن ضرور آئے گی پھر رت بہار کی خوش میری بے بسی پہ اے چرخ کہن نہ ہو شہر ستمگراں ہے یہ ممکن نہیں یہاں اہل وفا سے زینت دار و رسن نہ ہو کیسے وہ قوم ہوگی بھلا کامیاب آج دیدا جس کا دل نہ ہو دل میں لگن نہ ہو بے فیض ہر لباس ہے اے دختران قوم پیراہن حیا ہی اگر زیب تن نہ ہو بزم طرب سجائیے یا غم کی انجمن پامال بس روایت گنگ و جمن نہ ہو اس نسل نو سے کیسے ہو امید بہتری جس کا عمل نہ خوب ہو بہتر چلن نہ ہو افکار کی اڑان میں آ جاتی ہے کمی قائم اگر تسلسل مشق سخن نہ ہو احسنؔ نہ ہونا گردش حالات سے اداس ہے کون جس کی زیست میں رنج و محن نہ ہو
kaliyaan jahaan udaas hon gul mein phaban na ho
40 views





