SHAWORDS
A

Ahsan Rizvi Danapuri

Ahsan Rizvi Danapuri

Ahsan Rizvi Danapuri

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جدھر سے وادیٔ حیرت میں ہم گزرتے ہیں ادھر تو اہل تمنا بھی کم گزرتے ہیں ترے حضور جو انفاس غم گزرتے ہیں عجب حیات کے عالم سے ہم گزرتے ہیں رواں ہے برق کا شعلہ سحاب رحمت میں نقاب ڈال کے اہل ستم گزرتے ہیں حیات روک رہی ہے کوئی قدم نہ بڑھائے کہ آج منزل ہستی سے ہم گزرتے ہیں للک بڑھا کے فقط چند بوند برسا کے رواں دواں سے سحاب کرم گزرتے ہیں تعجب ان کے لیے مرگ ناگہانی کا جو زندگی کے مراحل سے کم گزرتے ہیں مخالفت ہے کھلی اب نہ دوستی احسنؔ گھٹی گھٹی سی فضاؤں سے ہم گزرتے ہیں

jidhar se vaadi-e-hairat mein ham guzarte hain

40 views

غزل · Ghazal

ذہن کا سفر تنہا دل کی رہ گزر تنہا آدمی ہوا یارو آج کس قدر تنہا مقتدر سہاروں کی ہر قدم پہ حاجت ہے کب مقام پاتا ہے اپنا یہ ہنر تنہا پھر مجھے ڈرائیں گی خامشی کی آوازیں پھر مجھے ہے طے کرنا رات کا سفر تنہا جس کے سائے نے ہم کو بارہا پناہیں دیں آج بھی کھڑا ہے وہ راہ میں شجر تنہا دور بے نیازی میں کون کس کو پوچھے ہے بھیڑ میں بھی پاتا ہے خود کو ہر بشر تنہا

zehn kaa safar tanhaa dil ki rahguzar tanhaa

40 views

غزل · Ghazal

مآل سوز طلب تھا دل تپاں معلوم ستم کی آگ بھی ہونے لگی دھواں معلوم شکستہ پا بھی پہنچ ہی گئے سر منزل نہ راستے کی خبر تھی نہ کارواں معلوم شمیم دوست بڑھاتی ہے زندگی لیکن ہمیں حقیقت ہستی ابھی کہاں معلوم نہ جانے فتنہ گروں نے لگائی تھی کب آگ ہمیں تو آنچ ہوئی اس کی ناگہاں معلوم گزر چکے حد طوفاں سے موڑ لو کشتی یہاں سے ہوتے ہیں ساحل کے کچھ نشاں معلوم بچھڑ کے آپ سے کیا کیا گزر گئی دل پر کہوں کسی سے تو ہو اس کو داستاں معلوم ابھر کے کہتے ہیں پھولوں سے خار غم احسنؔ کہ ہم نہ ہوں تو نہ ہو رنگ گلستاں معلوم

maaal-e-soz-e-talab thaa dil-e-tapaan maalum

40 views

Similar Poets