
Aiman Junaid Khan
Aiman Junaid Khan
Aiman Junaid Khan
Ghazalغزل
عشق جیون کا باب ہے ایمنؔ عشق آنکھوں کا خواب ہے ایمنؔ خوب ہلچل مچاتا ہے دل میں عشق دریا چناب ہے ایمنؔ خواہشوں کے حسیں گلستاں میں عشق جلتا گلاب ہے ایمنؔ زندگی کے سوال ہیں جتنے عشق واحد جواب ہے ایمنؔ سنتا کب ہے کسی کی خود کے سوا عشق بگڑا نواب ہے ایمنؔ مجھ کو حاجت نہیں کتابوں کی عشق میرا نصاب ہے ایمنؔ پیار کی سچی داستانوں میں عشق ایمنؔ کا باب ہے ایمنؔ
ishq jivan kaa baab hai 'aiman'
40 views
جا چھپی ہے کہاں گپھاؤں میں اے خوشی اب جھلک اداؤں میں زندگی بوجھ بنتی جاتی ہے کچھ تو ترمیم کر سزاؤں میں اک نظر تو پلٹ کے دیکھ ذرا میں بھی ہوں تیری آشناؤں میں شہر کا شہر یوں دوانہ نہیں بات کچھ تو ہے ان اداؤں میں دید سے ہی علاج ممکن ہے زہر ہی زہر ہے دواؤں میں زیست کی ہر تپش میں جلتی رہی یار بیٹھے رہے ہواؤں میں اے حیات اسقدر نہ مشکل ہو خوف ہو تیری دھوپ چھاؤں میں مجھ کو تسلیم ہے جفا تیری ہے عقیدت مری وفاؤں میں مجھ کو مجھ سے چرانے والے سن تو ہے شامل مری دعاؤں میں آسماں میں بھی چھو ہی سکتی تھی بیڑیاں ہیں انیک پاؤں میں ذکر اب تو کرو محبت کا کتنی نفرت ہے ان فضاؤں میں رات بھر جاگتے ہیں بچے بھی اب نہیں فرق شہر گاؤں میں بس پسینے نصیب میں آئے زندگی تیری دھوپ چھاؤں میں وقت کے مارے تنہا تم ہی نہیں میں بھی شامل ہوں مبتلاؤں میں زندگی اور کتنا چلنا ہے آبلے پڑ گئے ہیں پاؤں میں
jaa chhupi hai kahaan guphaaon mein
40 views
جو اشک دل پہ گرے وہ شمار کر نہ سکی میں اس کے جذبوں کو دل پہ سوار کر نہ سکی وہ کر رہا تھا بغاوت پہ مجھ کو آمادہ مگر قبیلے کی عزت پہ وار کر نہ سکی وہ سبز باغ دکھاتا تھا مجھ کو وعدوں کے یہ آنکھ اس پہ مگر انحصار کر نہ سکی بچھڑ کے تجھ سے مری خود سے جنگ جاری رہی میں دل کی دنیا کبھی سازگار کر نہ سکی وہ میرے ساتھ ہے ہم زاد کی طرح ایمنؔ میں جس پہ حالت دل آشکار کر نہ سکی
jo ashk dil pe gire vo shumaar kar na saki
40 views
نظر ہتھیار کرنا چاہتے ہیں ادا سے وار کرنا چاہتے ہیں نگاہیں چار کرنا چاہتے ہیں تمہیں ہم پیار کرنا چاہتے ہیں رہے ہیں صبر کی بستی میں زندہ تو اب اظہار کرنا چاہتے ہیں نگاہیں بند کر لی ہیں کہ جاناں ترا دیدار کرنا چاہتے ہیں بنا کر حوصلہ پتوار اب ہم سمندر پار کرنا چاہتے ہیں اداکاری دغا دینے کی کر کے تجھے ہشیار کرنا چاہتے ہیں سنا کر داستاں ترک تعلق زمیں ہموار کرنا چاہتے ہیں ردائے بے حسی اوڑھے ہیں یاں جو انہیں بیدار کرنا چاہتے ہیں ہلیں گے لفظوں سے ایوان سارے قلم تلوار کرنا چاہتے ہیں گرفتار محبت کر کے ایمنؔ غضب سرکار کرنا چاہتے ہیں
nazar hathiyaar karnaa chaahte hain
40 views
شہد گل گیت ابر تارا ہے ماں محبت کا استعارہ ہے زندگی دائمی تلاطم ہے اور ماں ہر گھڑی کنارہ ہے تربیت انبیا بھی پاتے ہیں ماں کی آغوش وہ ادارہ ہے جتنے جذبات ہیں محبت کے سب پہ ماں بس ترا اجارہ ہے زندگی تیرگی سے پر ایمنؔ ماں چمکتا ہوا منارہ ہے
shahd gul giit abr taaraa hai
40 views
گاؤں والے کہاں بدلتے ہیں آؤ ہم ہی جہاں بدلتے ہیں ایک ہم سے گریز کی خاطر کتنے وہ آشیاں بدلتے ہیں وہ عقیدت کے رنگ کیا جانیں روز جو آستاں بدلتے ہیں عقل والوں نے ہار کر یہ کہا عشق والے کہاں بدلتے ہیں ہم کو اردو ہے جان سے پیاری ہم نہیں وہ جو جاں بدلتے ہیں کیوں نہیں آتی ہیں ابابیلیں آؤ طرز فغاں بدلتے ہیں رت جو بدلی تو میں نے یہ جانا کیوں پرندے مکاں بدلتے ہیں وقت پڑنے پہ جانا ہے ایمنؔ کس طرح مہرباں بدلتے ہیں
gaanv vaale kahaan badalte hain
40 views





