SHAWORDS
Ain Seen

Ain Seen

Ain Seen

Ain Seen

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہے طریقہ کوئی خواب وصل کی تعبیر کا میرے اس کے درمیاں پردہ ہے اک تصویر کا ذکر تیرا ترک کرنا ہے مرے غم کی دوا منتظر ہوں اس مجرب نسخے کی تاثیر کا یاد میں تیری تڑپ کر حال دل کرنا رقم مرتکب ہوتا ہوں میں ہر شب اسی تقصیر کا زخم دل کو ڈھانکنے کا اک وسیلہ تھا سخن پھر وہ حیلہ بن گیا اس زخم کی تشہیر کا ہاں وہی سرکش مجھے اک جا نظر آیا تھا کل سر جھکا کر سن رہا تھا فیصلہ تقدیر کا کرتا ہوں ایذائے تنہائی کی تدبیریں بہت کاو کاو امتحاں لیتی ہے ہر تدبیر کا آگہی نے چپ کیا ایسا کہ شہر شور میں نعرۂ حق رہ گیا حصہ میری جاگیر کا

hai tariqa koi khvaab-e-vasl ki taabir kaa

40 views

غزل · Ghazal

گویا ہے تاب عشق میں بیمار کی طلب آ جا تو اب سمجھ کے دل زار کی طلب پھر چشم وا کرے ہے رخ یار کی طلب کہ دید کو ہے پھر کسی دیدار کی طلب اور لمس کو ہے پھر اسی رخسار کی طلب ابرو کرے ہے پھر سے نگہ یار کی طلب پھر رخش کو خیال کے رفتار کی طلب بادہ کرے ہے پھر اسی سرشار کی طلب پھر نور کو ہوئی ہے شب تار کی طلب پھر آبلہ کرے ہے سر خار کی طلب پھر کام کو وہی ہے رہ دار کی طلب پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب

goyaa hai taab-e-ishq mein bimaar ki talab

40 views

غزل · Ghazal

درد تو میری جاں سے اٹھتا ہے شور کیوں آسماں سے اٹھتا ہے نالہ جب میری جاں سے اٹھتا ہے شور سا آسماں سے اٹھتا ہے ان خراشوں پہ کیا رکھوں مرہم درد زخم نہاں سے اٹھتا ہے زخم دے کر جو سو گیا ہے کہیں کب وہ میری فغاں سے اٹھتا ہے کیسے جیتا ہے وہ بھلا جس کا جان جاں اس جہاں سے اٹھتا ہے عشق اک بوجھ اور وہ نازک کب مرے مہرباں سے اٹھتا ہے باقی محفل میں کچھ نہیں رہتا جان محفل جو واں سے اٹھتا ہے تیرے اٹھنے پہ کچھ نہیں رہتا سایہ تک سائباں سے اٹھتا ہے

dard to meri jaan se uThtaa hai

40 views

غزل · Ghazal

اشک خونی کو ملا ہے ترے انداز کا رنگ پھیلا عارض پہ ترے دل میں نہاں راز کا رنگ چشم گریاں کو ملی رخ کی گلابی تیرے چھڑکے نالے کی دبیزی تیری آواز کا رنگ پھنکتا ہے صور سا جو بزم طرب میں دل کی ڈھونڈے ہے تار ہر اک ساز ترے ناز کا رنگ ڈھونڈے ہر لفظ وہی چھب جو ترے ساتھ گیا وہ مسیحائی تری وہ ترے اعجاز کا رنگ حسن و مستی جو جھلکتی تھی ادا سے اس کی اب تو مے سے ہی فقط چڑھتا ہے دم ساز کا رنگ

ashk-e-khuni ko milaa hai tire andaaz kaa rang

40 views

غزل · Ghazal

بہت کیا خود سے وحشت ہے نہیں تو کیا ہر اک سانس زحمت ہے نہیں تو اسے جو دیکھ کے کھل سا گیا ہے کیا پھر جینے کی حسرت ہے نہیں تو اکیلے پن کے جنگل کے او باسی تو چاہتا کیا رفاقت ہے نہیں تو پراگندہ ترے افکار سارے کیا ان میں کوئی ندرت ہے نہیں تو یہ جذبہ یہ ترے بے قابو جذبہ کیا ان میں کوئی شدت ہے نہیں تو یہ جو بربادئ دل سب ہوئی ہے تجھے کوئی ندامت ہے نہیں تو ترے سر میں اٹھی ہے جو یہ شورش سخن اس کی علامت ہے نہیں تو بہت کھل کے جو تو یوں جی رہا ہے تجھے مرنے کی عجلت ہے نہیں تو خودی کو ڈھونڈھتا ہے کیوں تو خود میں تجھے اپنی ضرورت ہے نہیں تو تو خود میں ڈوبتا کیوں جا رہا ہے تجھے خود سے محبت ہے نہیں تو تری سانسوں میں کیوں یہ ابتری ہے کیا جینا بھی مشقت ہے نہیں تو

bahut kyaa khud se vahshat hai nahin to

40 views

غزل · Ghazal

قیامت تھی کہ تم گزریں مگر سب خیریت سے ہیں یہ دنیا دوست ساتھی چارہ گر سب خیریت سے ہیں وہی دن کا نکلنا ہے وہی پھر شام کا ڈھلنا تمہارے بعد بھی شام و سحر سب خیریت سے ہیں تمہاری یاد سے روشن مرا غم خانہ رہتا ہے اجالا روشنی شمس و قمر سب خیریت سے ہیں مرا ٹوٹا ہوا دل جا بجا اب ریزہ ریزہ ہے رگ جاں پارۂ قلب و جگر سب خیریت سے ہیں گو تم تک جا نہیں پاتے تم ان کو سن نہیں پاتیں وہ لیکن نالہ ہائے بے اثر سب خیریت سے ہیں میں تم سے جھوٹ بولوں یوں کہوں گھر خیریت ہے سب چلو سب ٹھیک ہے دیوار و در سب خیریت سے ہیں ہیں ہم سب گردش دوراں کے فولادی شکنجے میں صلیب زیست پہ جکڑے بشر سب خیریت سے ہیں سبق صد رائیگانی کا جو عاشق پڑھ نہیں پائے ہیں غلطیدہ بہ خون دل مگر سب خیریت سے ہیں تمہارے بعد سے دنیا میں شفافی ذرا کم ہے ریا کاری زیادہ ہے مگر سب خیریت سے ہیں یہ دل تنہا تمہیں کھو کر بہت ویران رہتا ہے گلی کوچے یہ بستی اور نگر سب خیریت سے ہیں

qayaamat thi ki tum guzrin magar sab khairiyat se hain

40 views

Similar Poets