Akhtar Aanaulavi
جلوؤں کو تیرے آج سر عام دیکھ کر شرمندہ ہوں میں ذوق نظر خام دیکھ کر ساقی کی اور بڑھ گئیں بے التفاتیاں دست طلب میں ٹوٹا ہوا جام دیکھ کر خاروں کو بھی نہ ہوگی تمنائے فصل گل اب موسم بہار کا انجام دیکھ کر ہر ذرہ دل کا ہے غم جاناں کی جلوہ گاہ چلنا غم حیات بہر گام دیکھ کر دنیا بھی میرے دل کی طلب گار بن گئی میرا خلوص میری وفا عام دیکھ کر اخترؔ نہ جانے کس لیے ہیں مجھ پہ طعنہ زن کچھ لوگ ان کے ساتھ مرا نام دیکھ کر
jalvon ko tere aaj sar-e-‘aam dekh kar
40 views