SHAWORDS
Akhtar Azad

Akhtar Azad

Akhtar Azad

Akhtar Azad

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

shauq-e-izhaar hai karnaa bhi nahin chaahte hain

شوق اظہار ہے کرنا بھی نہیں چاہتے ہیں اپنے وعدے سے مکرنا بھی نہیں چاہتے ہیں کوئی تو ہے مجھے جینے کی دعا دیتا ہے ہم ترے عشق میں مرنا بھی نہیں چاہتے ہیں تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے دل میں ترے کوچے سے گزرنا بھی نہیں چاہتے ہیں دل یہ کہتا ہے سمٹ جائیں تری بانہوں میں بوئے گل بن کے بکھرنا بھی نہیں چاہتے ہیں جھانکتے ہیں مری آنکھوں میں بچا کر نظریں گو بظاہر وہ سنورنا بھی نہیں چاہتے ہیں دے کے آواز کوئی روک رہا کب سے اور ہم ہیں کہ ٹھہرنا بھی نہیں چاہتے ہیں لوگ ساحل پہ کھڑے ڈھونڈھ رہے ہیں موتی بہتے پانی میں اترنا بھی نہیں چاہتے ہیں

غزل · Ghazal

bevafaa hai vo kabhi pyaar nahin kar saktaa

بے وفا ہے وہ کبھی پیار نہیں کر سکتا ہاں مگر پیار سے انکار نہیں کر سکتا اپنی ہمت کو جو پتوار نہیں کر سکتا وہ سمندر کو کبھی پار نہیں کر سکتا جو کسی اور کے جلووں کا تمنائی ہو وہ کبھی بھی ترا دیدار نہیں کر سکتا ہونٹ کچھ کہنے کو بیتاب ہیں کب سے لیکن اس کی عادت ہے وہ اظہار نہیں کر سکتا اس کی چاہت پہ بھروسہ ہے مجھے میرے سوا وہ کسی اور کو حق دار نہیں کر سکتا اس کو معلوم ہے وہ خود بھی تو رسوا ہوگا مجھ کو رسوا سر بازار نہیں کر سکتا وقت پڑ جائے تو وہ جان بھی دے سکتا ہے فن کا سودا کوئی انکار نہیں کر سکتا

غزل · Ghazal

duniyaa tujhe chaahe kuchh bhi kahe ham jaan-e-tamannaa kahte hain

دنیا تجھے چاہے کچھ بھی کہے ہم جان تمنا کہتے ہیں ہم تیری نظر میں غیر سہی پھر بھی تجھے اپنا کہتے ہیں پھولوں میں مثل گلاب ہے تو تاروں میں حسیں مہتاب ہے تو تو سب سے اچھا لگتا ہے تجھے سب سے اچھا کہتے ہیں تو دلبر ہے دل دار ہے تو تو جان و دل سے پیارا ہے فطرت نے جس کو سنوارا ہے تجھے حسن سراپا کہتے ہیں کوئی عشق کی تجھ کو جان کہے کوئی دل کا تجھے ارمان کہے دل والوں کی اس بستی میں تجھے اور بھی کیا کیا کہتے ہیں پل بھر کے لئے آرام نہیں اب اس کے سوا کوئی کام نہیں تری صورت دیکھا کرتے ہیں تجھ کو آئینہ کہتے ہیں تو لاکھ چھپائے عشق مگر چہرے سے عیاں ہو جاتا ہے کہنے والے تو دنیا میں مجھے آج بھی تیرا کہتے ہیں

غزل · Ghazal

taaron ki utarti hai Doli aur chaandni dulhan hoti hai

تاروں کی اترتی ہے ڈولی اور چاندنی دلہن ہوتی ہے جس رات میں دو دل ملتے ہیں وہ رات سہاگن ہوتی ہے جب دل سے دل مل جاتے ہیں تو کیا کیا گل کھل جاتے ہیں کچھ غیر گلے لگ جاتے ہیں کچھ اپنوں سے ان بن ہوتی ہے جلتے ہیں جہاں والے لو جلیں ہم راہ وفا میں ساتھ چلیں دنیا کو چھوڑو دنیا تو دل والوں کی دشمن ہوتی ہے صورت مری آنکھوں میں دیکھو کیا دیکھ رہے ہو آئینہ جس آنکھ میں کوئی بس جائے وہ آنکھ بھی درپن ہوتی ہے بس ان کے لئے ہی رات اور دن دل میرا دھڑکتا ہے لیکن جب سامنے وہ آ جاتے ہیں تیز اور بھی دھڑکن ہوتی ہے تم بن یہ بہاروں کا موسم لگتا ہے مجھے پت جھڑ کی طرح تم ساتھ رہو تو ہر اک رت میرے لئے ساون ہوتی ہے تصویر ہو تیری جب دل میں غم دل کے قریب آئے کیسے میں یاد تجھے کر لیتا ہوں جب کوئی بھی الجھن ہوئی ہے نکھرے تو بنے اک تاج محل پھیلے تو خوشبو اور غزل لیکن جو سمٹتی ہے چاہت محبوب کا دامن ہوتی ہے

غزل · Ghazal

aap se dil lagaanaa zaruri nahin

آپ سے دل لگانا ضروری نہیں جان کر چوٹ کھانا ضروری نہیں پیار سے دیکھ لو یوں ہی مر جائیں گے ہر ستم آزمانا ضروری نہیں تو خدا کے لئے میرا دل توڑ دے روز کا یہ بہانا ضروری نہیں عشق کو ایک لمحہ بہت ہے یہاں روز ملنا ملانا ضروری نہیں

غزل · Ghazal

jis ke dil mein koi armaan nahin hotaa hai

جس کے دل میں کوئی ارمان نہیں ہوتا ہے میری نظروں میں وہ انسان نہیں ہوتا ہے خودکشی جرم سمجھتے ہیں زمانے والے جان دینا کوئی آسان نہیں ہوتا ہے ہر گھڑی دل میں رہا کرتا ہے یادوں کا ہجوم یہ وہ گھر ہے کبھی ویران نہیں ہوتا ہے بھولی بسری ہوئی یادیں بھی رلا دیتی ہیں بے سبب کوئی پریشان نہیں ہوتا ہے وحشت دل کا تقاضہ ہے کہ بس پیار کرو پیار کے سودے میں نقصان نہیں ہوتا ہے عمر بھر کے لئے آ جاؤ مرے دل میں رہو اپنے گھر میں کوئی مہمان نہیں ہوتا ہے حسن اخلاق سے ماں باپ کی خدمت کرنا فرض تو ہوتا ہے احسان نہیں ہوتا ہے

Similar Poets