Akhtar Husain Shaafi
Akhtar Husain Shaafi
Akhtar Husain Shaafi
Ghazalغزل
ہے یقیں مجھے مرا ہم نشیں مری اس ادا سے خفا نہیں نہ جھکے گا سر در حسن پر کہ صنم صنم ہے خدا نہیں مری آرزو مری عاشقی ہے جنوں کی شدتوں سے بری یہ مذاق نو ہے بڑا عجب کہ میں صرف تجھ پہ فدا نہیں ذرا دور ہیں مری منزلیں تو نظر اٹھا نہ خفا ہو یوں مرے ہم سفر مرا راستہ ترے راستے سے جدا نہیں ہے جو غم زدوں کے دلوں کا غم وہ ہمارے دل کا بھی غم بنے وہ امیر ہو کہ غریب ہو یہ بشر بشر سے جدا نہیں جو خوشی ملی ہے وہ کم سہی چلو ہم سبھی اسے بانٹ لیں نہ پئے کسی کا کوئی لہو کہ لہو ہے زہر دوا نہیں یہ جو دل ہے جام غرض نہیں یہ مکاں طویل و عریض ہے کسی درد کو نہ ملے جگہ مرا دل تو ایسا بنا نہیں میں فرار ذات سے کیا کروں ہے یہ ذات اپنے میں کائنات مجھے فخر ہے مری شاعری مری زندگی سے جدا نہیں
hai yaqin mujhe miraa ham-nashin miri is adaa se khafaa nahin
40 views
صد حیف عدم کو ٹھکرا کر ہستی کی زیارت کر بیٹھے ناداں تھے ہم نادانی میں جینے کی حماقت کر بیٹھے خالق نے نوازا روز ازل کس طرح ہمیں کیا بتلائیں لیکن جو امانت پائی تھی ہم اس میں خیانت کر بیٹھے اس دیس میں جب ہر رہزن کو رہبر کا شرف پاتے دیکھا قدروں کے محافظ ہو کر بھی قدروں سے بغاوت کر بیٹھے نوخیز گلوں کے عارض پر جو موت کی زردی لے آئی اس باد صبا سے گھبرا کر طوفاں سے محبت کر بیٹھے وہ دور گیا جب ظالم کو مائل بہ کرم کرتی تھی وفا ہم کر کے محبت دشمن سے سامان قیامت کر بیٹھے آزار نہ جانے کتنے تھے شافیؔ سے مداوا کیا ہوتا توحید کے دیوانے تھے مگر اصنام کی طاعت کر بیٹھے
sad-haif adam ko Thukraa kar hasti ki ziyaarat kar baiThe
40 views
ہم درد نہاں کو محفل میں رسوائے حکایت کر نہ سکے کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن کچھ ان سے خطابت کر نہ سکے اے حسن ذرا دم بھر کے لئے کچھ شوخ تجھے بھی ہونا تھا دو دل تھے فدا آپس میں مگر اظہار محبت کر نہ سکے گزرے ہوئے لمحوں کی یادیں اب شوق وفا سے کہتی ہیں جو شے تھی قریب قلب و جگر اس شے سے رفاقت کر نہ سکے ہر شوق بڑھا کر سپنے میں زحمت تو اٹھائی راہوں کی پہنچے تو در کعبہ پہ مگر کعبے کی زیارت کر نہ سکے سینے میں خلش ہے فرقت کی بیتاب تمنا ہے میری جو ہم سے محبت کرتے تھے ہم ان پہ عنایت کر نہ سکے چنچل بھی وہ تھے چالاک بھی تھے پر شرم و حیا بھی ایسی تھی ہم من کے پرانے پاپی بھی کچھ ان سے شرارت کر نہ سکے واعظ نے کہا تھا ضبط کرو جذبات محبت کو لیکن ہم اس کی ہدایت پر چل کر اس دل کی حفاظت کر نہ سکے دنیا کے غموں کا خوف نہیں بے باک مسافر کو شافیؔ دم بھر کے لئے پلکوں کے تلے افسوس اقامت کر نہ سکے
ham dard-e-nihaan ko mahfil mein rusvaa-e-hikaayat kar na sake
40 views
بندش الفاظ ہی سے شاعری ہوتی نہیں صرف جی لینے سے جیسے زندگی ہوتی نہیں شاعری کیفیت جذب و جنوں کا نام ہے یہ نہ ہو تو شاعری پھر شاعری ہوتی نہیں جو بھی ہو لیکن ہمارے واسطے یہ شاعری پردہ دار راز ہائے زندگی ہوتی نہیں گرمئ جذبات میں امکاں حسیں دھوکے کا ہے دل کی چنگاری فروغ دائمی ہوتی نہیں پاک ہوتا ہے جنون و جستجو سے راز داں راز دانی بے نیاز آگہی ہوتی نہیں مختلف اک دوسرے سے ہیں حقیقت اور مجاز کوچۂ محبوب کعبہ کی گلی ہوتی نہیں
bandish-e-alfaaz hi se shaairi hoti nahin
40 views
ذوق نظر بڑھائیے گلزار دیکھ کر الفت کا سودا کیجئے بازار دیکھ کر میں نے جنون عشق سے دامن بچا لیا ہر بوالہوس کو تیرا پرستار دیکھ کر میرے ہی در پہ تھا کوئی سائل کے روپ میں حیرت زدہ رہا مجھے نادار دیکھ کر نغمہ سرا نہ ہو سکا گلشن میں عندلیب طوفان و برق و باد کے آثار دیکھ کر بیتاب دل کو اور ترستی نگاہ کو بہلا سکا نہ میں گل و گلزار دیکھ کر دل گفتگو کی سمت جھکا شعر بن گئے اظہار غم کو روح کا غم خوار دیکھ کر ہوش و ہوس کی جنگ میں حیرت زدہ رہا جذبوں کا شور عقل کے افکار دیکھ کر آنکھوں سے کائنات کے آنسو ٹپک پڑے شافی کو اس جہان میں بیمار دیکھ کر یاد آ گئیں خرد کو وہ جنت کی لغزشیں دل کا جنون و شوق شرر بار دیکھ کر ہاتھوں میں دل کے پرچم افکار دے دیا انسانیت کو برسر پیکار دیکھ کر
zauq-e-nazar baDhaaiye gulzaar dekh kar
1 views





