Akhtar Kazmi
ہم ازل سے ان چاہے ضابطوں میں رہتے ہیں زندگی کا لالچ ہے قاتلوں میں رہتے ہیں ہم عجب مسافر ہیں راستوں سے ڈرتے ہیں منزلوں کی خواہش ہے اور گھروں میں رہتے ہیں آج بھی رہائی کے کچھ بچے کھچے جذبے ہم شکست خوردہ ہم جیدوں میں رہتے ہیں ڈھونڈتے ہیں اپنے کچھ گمشدہ ارادوں کو ہم کہ اپنے خوابوں کی کرچیوں میں رہتے ہیں کیوں بچھڑنے والوں کے عکس مر نہیں سکتے کیوں یہ اشک آنکھوں کے آئینوں میں رہتے ہیں سر اٹھا کے چلنے کا شوق ہو جنہیں اخترؔ وہ تو داستانوں یا مقتلوں میں رہتے ہیں
ham azal se an-chaahe zaabton mein rahte hain
41 views