Akhtar Raza Adeel
ghurur-e-paas-e-rivaayat badal ke rakh dungaa
غرور پاس روایت بدل کے رکھ دوں گا میں رفتگاں کی شریعت بدل کے رکھ دوں گا گدائے علم ہوں نکلا تو پھر قرینے سے تمہارا طرز طریقت بدل کے رکھ دوں گا صلاح دوست شرافت سے مان لے ورنہ میں یہ لباس شرافت بدل کے رکھ دوں گا جو عہد رفتہ سے جاؤں گا رفتگاں کی طرف تو پھر سکون سے وحشت بدل کے رکھ دوں گا میں اس زمین سے جس روز اٹھ گیا اخترؔ تو آسمان کی حالت بدل کے رکھ دوں گا