Akhtar Roorkavi
Akhtar Roorkavi
Akhtar Roorkavi
Ghazalغزل
jitnaa jahaan se dil ko lagaataa hai aadmi
جتنا جہاں سے دل کو لگاتا ہے آدمی اتنا خدا کو بھولتا جاتا ہے آدمی قسمیں زباں سے جتنی بھی کھاتا ہے آدمی سمجھو کہ اتنا جھوٹ چھپاتا ہے آدمی اوقات اپنی جب بھی دکھاتا ہے آدمی انسانیت کا خون بہاتا ہے آدمی دولت کا ہو نشہ کہ جوانی کا ہو سرور لٹنے کے بعد ہوش میں آتا ہے آدمی تعویذ میں کہیں تو کہیں جھاڑ پھونک میں قرآن بیچ بیچ کے کھاتا ہے آدمی جس نے بھی کہہ دیا کہ تو دل کے قریب ہے آنسو اسی کو خوں کے رلاتا ہے آدمی اخترؔ کسی کا درد حقیقت میں بانٹ کر خلد بریں کی راہ بناتا ہے آدمی
gar sharik-e-badi nahin hotaa
گر شریک بدی نہیں ہوتا لہجہ اب ملتجی نہیں ہوتا درد وہ درد ہی نہیں ہوتا درد جو دائمی نہیں ہوتا کام جو با خوشی نہیں ہوتا قاعدے سے کبھی نہیں ہوتا دل میں عشق نبی نہ ہو جب تک کامل ایمان بھی نہیں ہوتا سرنگوں ہونا دین کی خاطر درجۂ بزدلی نہیں ہوتا ذکر ہوتا ہے جب بھی دولت کا آدمی آدمی نہیں ہوتا قوم بے حس نہ گر ہوئی ہوتی عالم بے کسی نہیں ہوتا وار کرتا ہے جو قریب آکر دوستو اجنبی نہیں ہوتا جس کو دولت عزیز ہو وہ غنی ہو نہ ہو پر سخی نہیں ہوتا میں غلط تھا یا ہوں یہ ممکن ہے فیصلہ ہر سہی نہیں ہوتا مرضی کے جو خلاف ہو رشتہ باعث سر خوشی نہیں ہوتا بے غرض جو نہیں وہ کچھ بھی ہو جذبۂ دوستی نہیں ہوتا آپ کو شیخ کون سمجھائے ہر مسلماں ولی نہیں ہوتا مال فتنہ ہے اخترؔ اور فتنہ حاصل زندگی نہیں ہوتا
kyaa vo degaa sazaa nahin maa'lum
کیا وہ دے گا سزا نہیں معلوم جس کو میری خطا نہیں معلوم موت کا ہے پتہ کہ آئے گی زندگی کا پتہ نہیں معلوم کشتیاں دو ہیں ناخدا تنہا حشر ہونا ہے کیا نہیں معلوم ڈور الجھائی ہم نے یوں اخترؔ کیسے ڈھونڈھیں سرا نہیں معلوم
maut se ziist khauf khaati hai
موت سے زیست خوف کھاتی ہے موت آتے ہی بھاگ جاتی ہے زندگی عمر بھر ڈراتی ہے موت ہر خوف کو بھگاتی ہے زندگی ہر قدم ستاتی ہے موت آغوش میں سلاتی ہے زیست راہ غلط بتاتی ہے موت راہ سہی دکھاتی ہے زندگی درد دل بڑھاتی ہے موت ہر درد کو مٹاتی ہے زندگی ٹھوکریں لگاتی ہے موت آکر انہیں بھلاتی ہے زندگی بخشتی ہے جو آنسو موت آکر انہیں سکھاتی ہے کیا عجب ہے کہ زیست انساں کو ہاتھ آئے نہ پھر بھی بھاتی ہے زیست جن کو عزیز ہے اخترؔ موت کب ان کو یاد آتی ہے
masala hal kabhi hotaa nahin talvaar ke saath
مسئلہ حل کبھی ہوتا نہیں تلوار کے ساتھ بات بنتی ہے سدا نرمیٔ گفتار کے ساتھ میں گریباں سے وہ الجھا رہا دستار کے ساتھ چل نہ دونوں ہی سکے وقت کی رفتار کے ساتھ دائمی ہے یہ سخن گو ہے سخن ور فانی دفن ہوتا ہی نہیں فن کبھی فن کار کے ساتھ یوں سزا دی گئی دستور کے قاتل تجھ کو جیسے قانون بھی شامل ہو گنہ گار کے ساتھ تیرے آثار بھی دنیا کو نظر نہ آتے گر میں پھیلا تھا کبھی جبر کی تلوار کے ساتھ ہر جگہ راہوں میں ارباب کرم ہیں اختر پھر کوئی کیسے چلے وقت کی رفتار کے ساتھ
ahl-e-khaana ki bhi naaraazgi ki baatein kar
اہل خانہ کی بھی ناراضگی کی باتیں کر خود سے خود کی کبھی آوارگی کی باتیں کر بات خاروں کی ہو انداز میں تلخی واجب پھول شاداب ہیں شائستگی کی باتیں کر بے زباں آس لئے دیکھتے ہیں جو تجھ کو ان کو دے کر زباں وابستگی کی باتیں کر کوئی حالات سے مجبور بھی ہو سکتا ہے آج حالات کی ناسازگی کی باتیں کر ان کا غصے میں عمل ٹھیک نہیں تھا مانا اب ذرا اپنی بھی دیوانگی کی باتیں کر ہو نہ ممکن اگر امداد غریباں اخترؔ دل خراشی نہیں دل بستگی کی باتیں کر





