Aks Firozpuri
Aks Firozpuri
Aks Firozpuri
Ghazalغزل
جائزہ لیں ہم اگر کیا ہے ہماری زندگی ایک ہی عنوان ہوگا اشتہاری زندگی جب چلی کوئی ہوا اڑتے گئے ہم دور تک خشک پتوں کی طرح ہم نے گزاری زندگی چاند کو بانہوں میں بھرنے کی فقط حسرت لیے دور سے دیکھا کیے لوگوں کی پیاری زندگی کس قدر بے کار ہے کالا دھواں اڑتا ہوا یوں سمجھ لو ہم نے بھی یوں ہی گزاری زندگی ہم رہے صحرا میں جلتے آسماں کے پاس عکسؔ راکھ کر لی ہے جلا کر ہم نے ساری زندگی
jaaeza lein ham agar kyaa hai hamaari zindagi
2 views
آگ کی لپٹیں ہیں مجھ میں موم کا پتلا ہے تو پاس میرے آ رہا ہے کتنا دیوانہ ہے تو اس پہ کتنے ناگ بھی پھنکارتے ہیں دیکھ لے جس شجر کے سائے میں آ کر ابھی لیٹا ہے تو تیرے رخ پر ہیں تھکاوٹ کے جو یہ آثار سے کیا کوئی لمبا سفر کر کے ابھی لوٹا ہے تو یہ تغیر کس لئے کیا حادثہ گزرا ہے بول موم سا تھا نرم اب کیوں سخت پتھر سا ہے تو دل میں اک پیہم کھٹک ہوتی ہے تیری یاد سے ساتھ تھا تو پھول تھا بچھڑا تو اک کانٹا ہے تو دور نو کا جو چلن ہے تو بھی تھوڑا سیکھ لے بے سبب ہی غیر کی مشکل میں کیوں پڑتا ہے تو سانپ کا کاٹا ہوا ہوتا تو بچ جاتا مگر تو نہ بچ پائے گا عکسؔ انسان کا کاٹا ہے تو
aag ki lapTein hain mujh mein mom kaa putlaa hai tu





