SHAWORDS
Alamdar Hussain

Alamdar Hussain

Alamdar Hussain

Alamdar Hussain

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کھلیں گے جب تلک اسرار کوئی اتر جائے گا دریا پار کوئی مسیحا دیر ہوتی جا رہی ہے کہیں مر جائے گا بیمار کوئی میں ریزہ ریزہ ہوتا جا رہا ہوں مجھے درکار ہے معمار کوئی میں شب بھر توڑتا رہتا ہوں اس کو اٹھا دیتا ہے پھر دیوار کوئی مجھے مقتل صدائیں دے رہا ہے کہیں گونجی ہے پھر للکار کوئی لڑا ہوں جس طرح میں خود سے تنہا ہوا ہے برسر پیکار کوئی یہ میرا دیس ہے جنت خدا کی ہے وارث کوئی دعویدار کوئی کسی نے قید کر لیں فاختائیں اٹھا کر لے گیا اشجار کوئی مرا اک درد یہ بھی ہے کہ میرا کہانی میں نہیں کردار کوئی تو کیا میں بھی بناتا دائرے ہی جو مل جاتی مجھے پرکار کوئی

khuleinge jab talak asraar koi

غزل · Ghazal

پھر سے پاگل بنا رہی ہے مجھے پھر تری یاد آ رہی ہے مجھے یاد بھی تیری تیرے جیسی ہے ہر گھڑی آزما رہی ہے مجھے آ نہ جاؤں کسی فریب میں میں زندگی پھر بلا رہی ہے مجھے دل کی دھڑکن سنوں تو لگتا ہے زندگی گنگنا رہی ہے مجھے ایک امید اس کے آنے کی آج پھر گدگدا رہی ہے مجھے چھوڑ دے میرے حال پر مجھ کو زندگی کیوں ستا رہی ہے مجھے رات وہ چاند کب کا ڈوب چکا اور تو اب بتا رہی ہے مجھے رات سورج ابھی نہیں نکلا بے وجہ کیوں جگا رہی ہے مجھے رات وہ تیری دسترس میں نہیں خواب جس کے دکھا رہی ہے مجھے ایک صورت سی واہمے جیسی تیرگی میں ڈرا رہی ہے مجھے

phir se paagal banaa rahi hai mujhe

Similar Poets