
Aleem Jahangir
Aleem Jahangir
Aleem Jahangir
Ghazalغزل
رنگت ترے بدن کی گلابوں میں اب نہیں نغمے کا درد بھی تو ربابوں میں اب نہیں ہم ہی تو ایک خانہ خرابوں میں اب نہیں وہ کون شخص ہے جو عذابوں میں اب نہیں تیرا وصال تیری تمنا تو دور ہے تیرا خیال بھی مرے خوابوں میں اب نہیں حیرانیوں میں الجھے ہوئے ہیں دل و دماغ وہ دل فریبیاں بھی سرابوں میں اب نہیں چہروں سے جس قدر ہے جہانگیرؔ غم عیاں تحریر اس طرح سے کتابوں میں اب نہیں
rangat tire badan ki gulaabon mein ab nahin
1 views
ڈستی شاموں تپتی صبحوں جلتی دوپہروں کے سوا ہم تیرہ بختوں کو ہائے کچھ نہ ملا رہروں کے سوا آنکھوں کے ان آئینوں میں ہم کو سارے عکس ملے ورنہ کیا شیشوں نے دکھایا لوگوں کو چہروں کے سوا ساحل پر تو جو آتا ہے پیاس بجھانے آتا ہے ساحل کے ہونٹوں کو چومے کون بھلا لہروں کے سوا محفل محفل شعر سنا کر میں نے کیا پایا آخر اس بستی میں کوئی نہیں جیسے گونگوں بہروں کے سوا جن کے نام سفر لکھا ہو وحشت کے بازاروں کا وہ دیوانے صحرا صحرا کیوں بھٹکیں شہروں کے سوا
Dasti shaamon tapti subhon jalti dopahron ke sivaa
1 views
کوئی خواہش کوئی ارماں کوئی حسرت نہ رہے اتنا روئیں کہ ہمیں کوئی شکایت نہ رہے غیر ممکن ہے مگر سعی تو کر کے دیکھیں شعلۂ ضبط کی پھر دل میں حرارت نہ رہے دور اتنے نہ رہو تم کہ بہت ممکن ہے مجھ کو اک روز تمہاری بھی ضرورت نہ رہے ہم سے ہے دوزخ و جنت کا تماشا یا رب ہم نہ ہوں گر تو کوئی ان کی حقیقت نہ رہے ان کو انسان جہانگیرؔ کہوں میں کیسے چاہتے ہیں جو زمانے میں محبت نہ رہے
koi khvaahish koi armaan koi hasrat na rahe
1 views
دل میں کوئی بھنور کوئی طوفان بھی نہیں تجھ سے بچھڑ کے اب کوئی ارمان بھی نہیں دروازہ گھر کا بند کرو اور سو رہو آنے کا اس کے اب کوئی امکان بھی نہیں سچ بولنے کے جرم کی تنہائی ہے سزا ہر شخص ورنہ شہر میں انجان بھی نہیں ملتے ہیں ہم سے نت نئے چہرے بدل کے لوگ ہم یہ تماشا دیکھ کے حیران بھی نہیں کل رات محو فکر و سخن تھا کچھ اس طرح کب آنکھ لگ گئی یہ مجھے دھیان بھی نہیں حالات نے کیے ہیں جہانگیرؔ وہ ستم اپنے لبوں پہ اب کوئی مسکان بھی نہیں
dil mein koi bhanvar koi tufaan bhi nahin
1 views
جو کہتا ہوں سچ کہتا ہوں برسوں سے جھوٹوں میں رہ کر سچا ہوں برسوں سے وار کرے ہے مجھ پر ہر قاتل لمحہ حیرت ہے پھر بھی زندہ ہوں برسوں سے مجھ کو کیا آئینہ دکھائے گا کوئی آپ میں اپنا آئینہ ہوں برسوں سے چلتے پھرتے سایوں کی یہ بستی ہے بھیڑ میں رہ کر بھی تنہا ہوں برسوں سے بے حرکت ہوں پتھر کے بت کی صورت اور سر بازار کھڑا ہوں برسوں سے لمحہ لمحہ جلتا بجھتا رہتا ہوں میں بھی جیسے ایک دیا ہوں برسوں سے
jo kahtaa huun sach kahtaa huun barson se
خموش ہو گیا آخر پکارنے والا ملا نہ بوجھ کوئی بھی اتارنے والا ہزار چہرے پہ پاکیزگی سہی اس کے مگر ہے خواہشیں دل میں ابھارنے والا ہزار رنگ نہ بدلے زمین بھی کیوں کر ہے آسمان کئی روپ دھارنے والا رہا ہے کار گہہ فن میں کامیاب بہت ہر ایک بازی زمانے میں ہارنے والا نہیں ہے کوئی جہانگیرؔ اک ہمارے سوا غموں سے زندگی اپنی نکھارنے والا
khamosh ho gayaa aakhir pukaarne vaalaa





