
Ali Arman
Ali Arman
Ali Arman
Ghazalغزل
طے ہو نہیں سکے ابھی دو چار میل بھی اور چبھ رہی ہے پاؤں میں جوتے کی کیل بھی افسوس ان پرندوں کو کیسے بتاؤں میں اک روز سوکھ جائے گی یادوں کی جھیل بھی کوانٹم کی کار گاہ عجیب و غریب میں اک دائرہ تکون بھی ہے مستطیل بھی منصف تو خیر پہلے ہی دشمن کے حق میں تھے میرے خلاف ہو گئے میرے وکیل بھی ارمانؔ سبز باغ کچھ ایسے دکھائے ہیں چلنے لگے ہیں ساتھ مرے سنگ میل بھی
tai ho nahin sake abhi do-chaar miil bhi
2 views
کیا ہے ساکن کوئی کہہ سکتا ہے کیا چل رہا ہے دشت تصویر میں نقش کف پا چل رہا ہے کائناتوں کے بھنور ڈوب رہے ہیں مجھ میں کس کو معلوم مرے ذہن میں کیا چل رہا ہے اپنے سینے میں لیے چودہ عرب سال کا دکھ میں اکیلا تو نہیں ساتھ خدا چل رہا ہے مطمئن کیسے کسی اور سے ہو پائے وہ دل جس کا خود اپنی ہی دھڑکن سے گلہ چل رہا ہے سن رہا ہوں میں چٹک غنچۂ مستقبل کی باغ میں تذکرۂ باد صبا چل رہا ہے سانس چلتی ہے ترے ہجر میں ایسے میری جیسے صحرا میں کوئی آبلہ پا چل رہا ہے ایک پانسے میں پلٹ سکتی ہے بازی پیارے دیکھتا جا ابھی سانسوں کا جوا چل رہا ہے کچھ بھی ساکن نہیں اس عالم کن میں ارمانؔ حسب توفیق ہر اک چھوٹا بڑا چل رہا ہے
kyaa hai saakin koi kah saktaa hai kyaa chal rahaa hai
ٹہنی ٹہنی سے خون جاری ہے ہم نے ایسے خزاں گزاری ہے ایسا لگتا ہے نیلی جھیلوں کی تیری آنکھوں سے رشتہ داری ہے میں ہوں شاگرد اس لیے اس کا عشق سب سے بڑا مداری ہے خواب دیکھا کہ اک شجر ہوں میں اور ترے ہاتھ میں اک آری ہے میری تصویر کی طرف دیکھو جس نے رو رو کے شب گزاری ہے ایک چانٹا پڑا تو جانو گے وقت کا ہاتھ کتنا بھاری ہے روح کو دے کے نیند کی گولی سیر اس کے بدن کی جاری ہے میں ذرا پانی پی کے آتا ہوں تری قربت بہت کراری ہے ہر شکاری کی تاک میں بیٹے کوئی اس سے بڑا شکاری ہے کام اب وہ چراغ کر رہے ہیں جو ہواؤں کی ذمہ داری ہے اک دھماکہ ہوا ہے سینما میں مر گئے لوگ فلم جاری ہے جون صاحب مرے معاملے میں ہجر میں بھی وصال طاری ہے جا رہے ہیں خدا سے ملنے ہم یہ زمیں تو بس اک سواری ہے دل ہے تیری جدائی میں جیسے کوئی ہارا ہوا جواری ہے مار ڈالا ہے ایک کمسن نے ہونٹ ہلکے ہیں بوسہ بھاری ہے عام ہونے لگا ہے تھوڑا بہت جو مرا دین تازہ کاری ہے علی ارمانؔ کو سنبھال کے رکھ یہ ترا آخری پجاری ہے
Tahni Tahni se khuun jaari hai
مجھے ہوتی ہے اذیت بڑی تیاری میں اس کے کپڑے ہیں ابھی تک مری الماری میں حال ایسا ہے مری جان بچھڑ کر تجھ سے جیسے اچھا نہیں لگتا کوئی بیماری میں موت ہی ان کو جگائے تو جگائے صاحب لوگ مشغول ہیں خوابوں کی خریداری میں مجھے مارا ہے مری ساری تمناؤں نے رحم دل کوئی نہیں لشکر تاتاری میں لوگ خوش باش ہیں کتنے نئی کالونی کے اور پرندے ہیں درختوں کی عزا داری میں بارش درد جدائی کبھی رکتی ہی نہیں رات دن رہتا ہوں میں شعر کی سرشاری میں میں نے کہنا ہے بس اتنا ہی مرے دوست کہ دوست بنتے آسانی میں ہیں کھلتے ہیں دشواری میں مالک تخم تمنا نے چھپا رکھا تھا میری تعمیر کا رستہ مری مسماری میں میرے اک دوست نے جب میری جڑیں کاٹی تھیں کہیں مصروف تھا اس دن میں شجرکاری میں
mujhe hoti hai aziyyat baDi tayyaari mein
دل کی ضرورت لب تک لانی پڑتی ہے لفظوں سے کیوں بات بنانی پڑتی ہے کبھی کبھی کہیں آگ بجھانے کی خاطر نئی جگہ پر آگ لگانی پڑتی ہے ظاہر کرنے کے لیے خفیہ دشمنوں کو دوستوں میں افواہ اڑانی پڑتی ہے پھل نہیں دیتی خاموشی خاموشی سے اس کے لیے آواز اٹھانی پڑتی ہے پہلے ہنسی خود آ جاتی تھی ہونٹوں تک اب بہلا پھسلا کر لانی پڑتی ہے سورج صاحب کنجوسی کرتے ہیں جہاں وہاں پر اپنی دھوپ بنانی پڑتی ہے اچھا سودا پہلے خود بک جاتا تھا لیکن اب آواز لگانی پڑتی ہے ویرانے میرے در پر آ بیٹھتے ہیں جب بھی کم ان کی ویرانی پڑتی ہے سوچتا ہے ہر روز بھلانے کا تجھ کو روز ہی دل کو منہ کی کھانی پڑتی ہے عشق میں خود کو مار کے یار کے کوچے میں اپنی میت آپ اٹھانی پڑتی ہے دشت نوردی عشق میں کھیل ہے بچوں کا ہم کو اپنی گرد اڑانی پڑتی ہے اندھے شہر کو متوجہ کرنے کے لیے دشت میں جا کر دھوم مچانی پڑتی ہے یہاں کسی کو کوئی مقام نہیں دیتا اپنی جگہ ارمانؔ بنانی پڑتی ہے
dil ki zarurat lab tak laani paDti hai
جب تجھے ملنے کی تدبیر نئی ہوتی ہے صورت گردش تقدیر نئی ہوتی ہے منہدم ہوتا ہوں ہر آن پس حرف کہن تب کہیں شعر کی تعبیر نئی ہوتی ہے کیسے لوٹا میں ترے دست زمانہ گر میں تیرے چھونے سے تو تصویر نئی ہوتی ہے وقت دے جائے جسے یاد پرانی کوئی روز اس حرف کی تاثیر نئی ہوتی ہے اک عجب کیف میں چلتا ہوں سر دشت بلا جب مرے پاؤں میں زنجیر نئی ہوتی ہے ہم بدلتے نہیں ارمانؔ کبھی جاہ و حشم ہاں اسی خواب کی تعبیر نئی ہوتی ہے
jab tujhe milne ki tadbir nai hoti hai





