
Ali Asghar
Ali Asghar
Ali Asghar
Ghazalغزل
اہل دل فسانوں میں ذکر یار کرتے ہیں مسکرا کے محفل کو اشک بار کرتے ہیں بد نصیب دھرتی کی داستاں ہی ایسی ہے اس کے چاہنے والے اس پہ وار کرتے ہیں دھجیوں کے سودا گر آئیں آ کے لے جائیں ہم خوشی سے دامن کو تار تار کرتے ہیں حادثوں کے کندھوں پر جسم و جاں کو لے آؤ اسپتال کے کمرے انتظار کرتے ہیں بھولی بسری یادوں کے برف دان میں رکھ دو خواب جو تمہیں اکثر بے قرار کرتے ہیں جوڑ توڑ لفظوں کا شاعری نہیں ہوتا لوگ جانے کیوں ایسا بار بار کرتے ہیں
ahl-e-dil fasaanon mein zikr-e-yaar karte hain
گھر سے باہر نکل کے دیکھ ذرا کون صحرا میں دے گیا ہے صدا میں نے جب اس کی خیریت پوچھی اس نے باتوں میں مجھ کو ٹال دیا کتنے پنکھے لگا دئے چھت میں پھر بھی گرمی کا زور کم نہ ہوا اونچی اونچی عمارتوں میں کہاں جو سکوں دل کو جھونپڑے میں ملا ساتھ چلتے ہیں لوگ پل دو پل طے ہوا ہے ہر اک سفر تنہا آ کے جنگل میں چین سے رہیے رات اک بھیڑیا پکار گیا حیدرآباد میں علی اصغرؔ ایک میلہ سا مقبروں پہ لگا
ghar se baahar nikal ke dekh zaraa





