SHAWORDS
Ali Fraz Rezvi

Ali Fraz Rezvi

Ali Fraz Rezvi

Ali Fraz Rezvi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اس میں کیا جرم کیا خطا صاحب دل تو ٹھہرا ہی بے وفا صاحب پھر کسی دوسرے کا سجدہ ہو پھر نیا ہو کوئی خدا صاحب جو ہمیں یاد ہی نہیں تھے کبھی کیا بھلا ان کو بھولنا صاحب وہ بھی میری طرح بھلا ڈالیں کیا کہیں کچھ کبھی ہوا صاحب دل تڑپتا نہیں ہے ان کے لئے کر چکے سب دوا دعا صاحب ہے یہ مشہور اپنے بارے میں وہ کسی کا نہ ہو سکا صاحب ہم پہ تہمت کہ کر دیا بدنام اس قدر جھوٹ انتہا صاحب ذکر اکثر کیا ہے عشق کا پر نام کس کا کبھی لیا صاحب

is mein kyaa jurm kyaa khataa saahab

غزل · Ghazal

تیرے وعدے پہ اعتبار کیا مضطرب دل نے بار بار کیا ہم نے تو اس جہان فانی میں ہو سکا جتنا انتظار کیا اس کو آنہ ہے آئے گا لیکن کب قضا نے خیال یار کیا دامن عشق وقت نے آخر دیکھ تو کیسا تار تار کیا دل کے خس خانے جب سلگنے لگے ہم نے آنکھوں کو آبشار کیا تیری مجبوریاں رہی ہوں گی ٹھیک ہے ہم نے اعتبار کیا جل اٹھا طور بجھ گئے دیپک ہم نے خود کو فرازؔ دار کیا

tere vaade pe e'tibaar kiyaa

غزل · Ghazal

وہ حسن بے مثال کہاں جلوہ گر نہیں اپنا قصور ہے ہمیں تاب نظر نہیں سنتے ہیں چاند رات کو آیا تھا بام تک پھر اس کے بعد کیا ہوا کچھ بھی خبر نہیں اس کے سراپا حسن کی تعریف کیا کریں سر تا قدم پری ہے فقط اس کے پر نہیں بکھرے ہوئے ہیں بال ستاروں کی چھاؤں میں سجدے میں گر پڑیں گے ستارے یہ در نہیں گزری تھی رات اس کے قدم پر پڑے پڑے دیکھی پھر اس کے بعد کبھی پھر سحر نہیں اس کی فرازؔ ایک جھلک بھی کسے نصیب ایک تم کے تم نے دیکھا اسے رات بھر نہیں

vo husn-e-be-misaal kahaan jalva-gar nahin

غزل · Ghazal

اف ادائیں دکھا رہی ہیں وہ مسکرا کر ستا رہی ہیں وہ ہم فقیرو کی اپنے کوچے میں ایک محفل سجا رہی ہیں وہ کب سے نظریں بچائے بیٹھے ہیں یہ خبر ہے کہ آ رہی ہیں وہ ہے گہن چاند کو لگا دیکھا رخ سے پردہ اٹھا رہی ہیں وہ سارے عالم میں پھیلی بے چینی زلف بکھرائے جا رہی ہیں وہ زلف ماتھے پہ بدلیاں جیسے ابر سی بنتی جا رہی ہیں وہ ہم اسیر نگاہ ناز ہوئے کاہے آنکھیں ملا رہی ہیں وہ ترچھی نظروں سے میرے شانے پر زخم کاری لگا رہی ہیں وہ میرا صبر و قرار چھین لیا کیا ستم ہے کہ ڈھا رہی ہیں وہ سر کو اپنے فرازؔ خم کر دیں سجدۂ رب میں جا رہی ہیں وہ

uf adaaein dikhaa rahi hain vo

غزل · Ghazal

تیری زلفوں کے پیچ و خم کی قسم چین سے ہیں تیرے ستم کی قسم جس نے دیکھیں سو دل گنوا بیٹھا تیری آنکھیں وہ جام جم کی قسم ہم تو دیکھا کیے تھے حسرت سے سرخیٔ لب کو چشم نم کی قسم لڑکھڑانا ہے ان کی فطرت میں کون کھائے تیرے قدم کی قسم جانے کب پی تھی پر نشہ نہ گیا میرے ساقی تیرے کرم کی قسم بت گئے بت کدہ ہے ویرانہ دل ہے باقی ابھی حرم کی قسم ہو مبارک تمہیں یہ بزم تراب ہم بھی خوش ہیں جہان غم کی قسم

teri zulfon ke pech-o-kham ki qasam

Similar Poets