Ali Khan Jauhar
kahin par zulm ke shoale kahin par khud-parasti hai
کہیں پر ظلم کے شعلے کہیں پر خود پرستی ہے چمن کی آبرو خطرے میں ہے یہ بات سچی ہے وہ گھولا زہر نفرت کا سیاست نے فضاؤں میں گلوں کی آنکھ سے شبنم لہو بن کر ٹپکتی ہے بغاوت پر اگر ہم لوگ اتر آئے تو کیا ہوگا ابھی تو ہم نے رسی صبر کی یہ تھام رکھی ہے وہاں انصاف کی امید لے کر جا رہے ہو تم جہاں قانون نے آنکھوں سے پٹی باندھ رکھی ہے تڑپتا ہوں بچھڑ کر آپ سے کچھ اس طرح جوہرؔ بنا پانی کے جیسے ریت پہ مچھلی تڑپتی ہے