SHAWORDS
Ali Manzoor Hyderabadi

Ali Manzoor Hyderabadi

Ali Manzoor Hyderabadi

Ali Manzoor Hyderabadi

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

فرق جب لذت احساس میں پایا نہ گیا درد دیکھا نہ گیا تم کو دکھایا نہ گیا چٹکیاں کون یہ رہ رہ کے لئے جاتا ہے میرے دل میں تو مری جاں کوئی آیا نہ گیا لطف یوں رنجش بے جا کے لئے پہروں تک بے سبب روٹھنے والے کو منایا نہ گیا خواب پر کیف کا منظر بھی نشاط آور تھا دوست کو اس لئے کچھ دیر جگایا نہ گیا منع کرتی جو رہی خندہ جبینی اس کی درد دل اپنا کبھی اس کو سنایا نہ گیا خود ہنسا وہ یہ جوانی کی کرم بخشی ہے خسرو حسن کو مجھ سے تو ہنسایا نہ گیا دے تو دی ضبط محبت کی قسم ظالم نے فائدہ ضبط محبت کا بتایا نہ گیا کب دکھاتا ہے وہ بربادیٔ حسرت کا سماں خاک میں جب مری حسرت کو ملایا نہ گیا روشنی جس کی دکھاتی تھی مجھے بھول ہی بھول اس قمروش کا وہ انداز بھلایا نہ گیا طور کی پوری طرح یاد دلائی نہ گئی ہوش چھینے تو گئے ہوش میں لایا نہ گیا ان کی مشکوک نظر میں وہ مزا تھا منظور کہ یقیں اپنی محبت کا دلایا نہ گیا

farq jab lazzat-e-ehsaas mein paayaa na gayaa

غزل · Ghazal

جس کے ایماں پر بت کافر ہنسے اللہ اللہ وہ ہنسے کیونکر ہنسے حسن ماہ و ماہوش سحر آفریں ہائے جادوگر پہ جادوگر ہنسے قلقل مینا دکھائے جب اثر میں ہنسوں ساقی ہنسے ساغر ہنسے کیونکر آتی ہے ہنسی کس کو خبر ان پہ میں حیراں ہوں جو مجھ پر ہنسے اک پتے کی بات کہتا ہوں سنو کوئی ہنس کر روئے یا رو کر ہنسے اک پتہ کی بات کہتا ہوں سنو کوئی ہنس کر روئے یارو کر ہنسے پھبتیاں کہنے پہ میں آؤں اگر واعظ ذیشاں سر منبر ہنسے کیا خبر منظورؔ ہے کس دھیان میں وہ تو وہ زاہد فرشتوں پر ہنسے

jis ke imaan par but-e-kaafar hanse

غزل · Ghazal

حسن ان کا اپنے ذوق دید میں پاتا ہوں میں سامنے ہو کر وہ چھپتے ہیں تڑپ جاتا ہوں میں عشرت جلوہ بھی ہو جائے جہاں حیرت زدہ اے خیال دوست اس منزل پہ گھبراتا ہوں میں دیکھتا ہوں اپنے غم خواروں کی جب بے دردیاں حسن بے پردہ کی رہ رہ کر قسم کھاتا ہوں میں انتظار اس کا ہے کتنا جاں گسل کیونکر کہوں خط میں جس کا نام ہی لکھ کر تڑپ جاتا ہوں میں کب سنبھلنے دے گی غش سے ان کی چشم برق پاش مژدہ باد اے بے خودی آتے ہیں وہ جاتا ہوں میں بے خیالی میں کبھی اپنی زبان حال سے خستہ حالی کے مزے ان کو بھی سمجھاتا ہوں میں آہ اب تک کی نہیں سیر بہارستان دل اک خیالی رو میں اے ہمدم بہا جاتا ہوں میں حیرت افزا ہے مرا عشق محبت آفریں خود ہی اب مضطر نہیں ان کو بھی تڑپاتا ہوں میں راستہ چھوڑ اے تغافل میرے گھر آتے ہیں وہ رہبری کر اے تمنا ان کے گھر جاتا ہوں میں حیرت مشق تصور کھو نہ دے مجھ کو کہیں سامنے اپنے تجھے اے دل نشیں پاتا ہوں میں لا رہی ہے ان کی چشم لطف عشرت کے پیام دیکھ اے منظورؔ اب کیسا نظر آتا ہوں میں

husn un kaa apne zauq-e-did mein paataa huun main

غزل · Ghazal

اے کشمکش الفت جی سخت پریشاں ہے مرنے کی بھی حسرت ہے جینے کا بھی ارماں ہے ساحل سے نہیں لگتی غرقاب نہیں ہوتی کشتی ہے تھپیڑوں میں یہ بھی کوئی طوفاں ہے میں کیا مری الفت کیا تو اور مجھے پوچھے بس اے ستم آرا بس حسرت ہے نہ ارماں ہے یہ موج تبسم کیا ظالم اسے دھو دے گی جو رنگ پشیمانی چہرہ سے نمایاں ہے مغرور محبت ہوں خود میری نگاہوں میں یہ بے سر و سامانی راز سر و ساماں ہے اس حسن مجسم کی شرمیلی اداؤں کا احساس محبت بھی شرمندۂ احساں ہے منظورؔ اسے رخصت کس دل سے کروں گا میں دھڑکا ہے یہی ہر دم جب سے کہ وہ مہماں ہے

ai kashmakash-e-ulfat ji sakht pareshaan hai

غزل · Ghazal

غم کا گماں یقین طرب سے بدل گیا احساس عشق حسن کے سانچے میں ڈھل گیا ساتھ ان کے لے رہا ہوں میں گل گشت کے مزے یہ خواب ہی سہی مرا جی تو بہل گیا مجبور عشق چشم فسوں ساز سے ہوں میں جادو مجھی پہ دوست کا چلنا تھا چل گیا میں انتظار عید میں تھا عید آ گئی ارمان دید دامن عشرت میں پل گیا ہے برق جلوہ یاد مگر یہ نہیں ہے یاد خرمن مرے غرور کا کس وقت جل گیا پیمان عشق و حسن کی تجدید کے سوا جو بھی خیال ذہن میں آیا نکل گیا بڑھتے چلے ہیں آئے دن اسباب اضطراب یادش بخیر آج کا وعدہ بھی ٹل گیا منظورؔ کس زباں سے بتوں کو برا کہیں ایماں ہمارا کفر کے دامن میں پل گیا

gham kaa gumaan yaqin-e-tarab se badal gayaa

غزل · Ghazal

ناز بت مہوش پر قربان دل و جاں ہے یہ شان خدا شاہد غارت گر ایماں ہے جو بات بھی ہے پیاری جو چال بھی ہے اچھی آن اس کی نہیں مخفی شان اس کی نمایاں ہے ہم راہ چلوں اس کے کچھ بات کروں اس سے مدت سے یہ حسرت ہے مدت سے یہ ارماں ہے وہ مجھ کو دکھاتے ہیں ہر آن نیا جلوہ میرے لیے ہر جلوہ سرمایۂ احساں ہے گرداب حوادث میں خوش ہوں کہ مری کشتی نا دیدۂ ساحل ہے پروردۂ طوفاں ہے ہنستا ہوا آیا ہے ہنس ہنس کے رلائے گا وہ عہد شکن پھر اب آمادۂ پیماں ہے منظورؔ اسے دل دینا دل دے کے خلش لینا یہ بھی کوئی حسرت ہے یہ بھی کوئی ارماں ہے

naaz-e-but-e-mahvash par qurbaan dil-o-jaan hai

Similar Poets