
Ali Minai
Ali Minai
Ali Minai
Ghazalغزل
نہ مشت گل نہ کف نسترن میں ٹھہرے ہیں چمن کے رنگ بھلا کب چمن میں ٹھہرے ہیں مسافران رہ بے نشاں ہیں ہم اے دوست جو لمحہ بھر کو تری انجمن میں ٹھہرے ہیں ترا خیال بھی دل سے نکل ہی جائے گا کب آہوان رمیدہ ختن میں ٹھہرے ہیں بس ایک دستک غیبی کے انتظار میں ہم تمام عمر سرائے بدن میں ٹھہرے ہیں چلے تو جادۂ خوں پر چلے ہیں اہل وفا رکے تو سایۂ دار و رسن میں ٹھہرے ہیں مری غزل مرے اشعار اور کچھ بھی نہیں گماں کے عکس سراب سخن میں ٹھہرے ہیں پرو لوں تار نظر میں کہ اوس کے موتی نہ مشت گل نہ کف نسترن میں ٹھہرے ہیں
na musht-e-gul na kaf-e-nastaran mein Thahre hain
شہر جاں پر جو تری یاد کا لشکر ٹوٹا ایک حملے میں حصار دل خود سر ٹوٹا جیسے اک برق سی لہرائی پس پردۂ ابر جیسے اک چاند سر شاخ صنوبر ٹوٹا آ گیا تا بہ گریبان شفق دست سحاب بام افلاک پہ ناہید کا محور ٹوٹا میرے ساغر میں اتر آیا کسی شام کا عکس میری آنکھوں میں کسی حسن کا نشتر ٹوٹا دل کی گہرائی میں پھر جاگ اٹھا شعلۂ درد منجمد تھا جو مرے غم کا سمندر ٹوٹا دشت ایام سے لوٹی کسی احساس کی گونج معبد جاں میں کسی وہم کا پیکر ٹوٹا پھر پر اسرار یکا یک ہوئی خاموشیٔ شب پھر کوئی جام کسی ہاتھ سے گر کر ٹوٹا کاسنی دھوپ کے آنسو مری آنکھوں سے بہے جیسے اک مہر درخشاں مرے اندر ٹوٹا غل مچاتے ہوئے رنگوں کے پرندے نکلے سنگ حیرت سے جب آئینہ منظر ٹوٹا گنبد گوش میں گونجی پھر اک آواز شکست کیا خبر یہ مرا دل ٹوٹا کہ ساغر ٹوٹا
shahr-e-jaan par jo tiri yaad kaa lashkar TuuTaa
زیر زمیں اتر گئے یا سر آسماں گئے پیش روان راہ زیست کون کہے کہاں گئے کوئی رہا نہ آس پاس اے دل دوست نا شناس چھوڑ کے تجھ کو محو یاس سب ترے مہرباں گئے عرصۂ آرزو میں تھیں یوں تو ہزار وسعتیں تیرے قریب ہی رہے اہل وفا جہاں گئے ہوش کے مرحلوں میں اک مرحلۂ جنوں بھی تھا وادی وہم سے سبھی فکر کے کارواں گئے جب بھی ہوائے دشت نے اہل جنوں کو دی صدا موج شمیم گل کے ساتھ ہم بھی کشاں کشاں گئے کیسے وہ لوگ تھے جنہیں بے خبری قبول تھی ہم تو جنون آگہی لے کے گئے جہاں گئے عہد جنوں کے مشغلے وقت نے سب بدل دیے شوق کی لغزشیں گئیں ضبط کے امتحاں گئے آخر کار خامشی ہی سے کھلے دلوں کے راز حرف سخن زباں پہ جو آئے تھے رائیگاں گئے ہوش کی جرأتیں تمام حد یقیں پہ رک گئیں خلوت ناز تک تری صرف مرے گماں گئے ذہن کی چوب خشک کو پھونک گئی سخن کی آنچ دود نوا کے دائرے جانے کہاں کہاں گئے
zer-e-zamin utar gae yaa sar-e-aasmaan gae
بزم رنگ و نور میں صاحب نظر کوئی نہیں دیکھنے والے بہت ہیں دیدہ ور کوئی نہیں ہم کو ورثے میں ملا ہے وہ مکاں اجداد سے جس میں دیواریں ہی دیواریں ہیں در کوئی نہیں ہر گلی کوچے میں اب شمس و قمر بکنے لگے اب خریدار چراغ چشم تر کوئی نہیں یوں تخیل میں حقائق کی ملاوٹ ہو گئی اب فسانوں میں بھی حرف معتبر کوئی نہیں میں نئی منزل کو نکلا ہوں پرانی راہ پر میرے ہم راہی بہت ہیں ہم سفر کوئی نہیں اہل دل تو خیر سب سود و زیاں میں پڑ گئے کیا خرد مندوں میں بھی آشفتہ سر کوئی نہیں
bazm-e-rang-o-nur mein saahib-nazar koi nahin
نہ تیری یاد نہ وہ لطف آہ نیم شبی دل و دماغ ہوئے وقف رنج بے سببی ترے کرم نے کیا یہ بھی اک ستم ہم پر کہ چشم شوق نے سیکھی نہ مدعا طلبی غم نشاط کے ماروں کو کون سمجھائے خمار مے سے ہے بڑھ کر سرور تشنہ لبی وہ خانہ زاد بہاراں ہے اس کو زیبا ہے گلاب پیرہنی گل رخی و غنچہ لبی ہوس میں اک سخن رائیگاں کی وہ بھی گیا متاع غنچہ تھا جو اضطراب جاں بلبی کوئی نظر نہیں شائستۂ سخن ورنہ وہی ہے چشم فسوں گر کی گفتگو طلبی مرا وجود سہی ایک مشت خاک مگر ہے ذرے ذرے میں اعلان کہکشاں نسبی خرد حجاب حقیقت اٹھا تو دے لیکن ابھی جنوں کو گوارا نہیں یہ بے ادبی ہوائے زر سے ہوا کم نہ حبس جاں ہرگز مٹی نہ آب گہر سے کسی کی تشنہ لبی یقیں تو کیا مرے وہم و گماں لرز اٹھے نگار خانۂ فطرت میں تھی وہ بوالعجبی نگاہ یار تھی مائل بہ در گزر لیکن ہمیں رہے نہ ادب آشنائے بے ادبی تمام شہر پہ بیٹھی ہے اس کے علم کی دھاک کہ بولتا ہے وہ اردو بہ لہجۂ عربی خدا کا فضل ہے اور فیض ساقی شیراز کہ میرے شعر میں ہے کیف بادۂ عنبی
na teri yaad na vo lutf-e-aah-e-nim-shabi
کوچۂ دیدہ وراں میں در تاثیر کے پاس سیکھنے جائیے آداب سخن میر کے پاس راس آئی نہ رہائی ترے دیوانے کو دیر تک بیٹھ کے رویا کیا زنجیر کے پاس اب مرے شہر کے لوگوں سے لہو مانگے ہے روشنائی نہ رہی کاتب تقدیر کے پاس دل کے مانند دھڑکنے لگا ہر غنچہ سرخ شاخ گل ہم نے جو رکھ دی تری تصویر کے پاس رونق میکدۂ غالب و خسرو تسلیم بیٹھیے چل کے ذرا دیر کو اب میر کے پاس
kucha-e-dida-varaan mein dar-e-taasir ke paas





