
Ali Raza Baloch
Ali Raza Baloch
Ali Raza Baloch
Ghazalغزل
کیا کھوجتے ہیں مجھ میں سر شام ہی چراغ کیوں دیکھتے ہیں باندھے مجھے ٹکٹکی چراغ جیسے کسی کو روشنی مطلوب ہی نہیں بے فکر ہو کے سوئے پڑے ہیں سبھی چراغ قطعاً جو ایک پل بھی جلے ہی نہ تھے کبھی الزام دھر رہے ہیں ہوا پر وہی چراغ دونوں بنے ہیں مٹی سے پھر ایسا کیوں نہیں یعنی چراغ آدمی اور آدمی چراغ موجود ہوں میں پھر بھی ضرورت نہیں مری گویا کہ بن گئی ہے مری زندگی چراغ اس خوفناک آندھی کا جب تک پتہ چلا تب تک ہمارے ہاتھوں سے وہ لے اڑی چراغ یوں ڈر رہے ہو اس کو جلانے سے تم علیؔ جیسے کہ یہ ہو دنیا کا اک آخری چراغ
kyaa khojte hain mujh mein sar-e-shaam hi charaagh
سفر کی خاک کو پیروں سے ہم اڑاتے گئے بڑے ہی شوق سے ہم دشت میں ٹہلتے گئے ہوا نے لاکھ کیا اہتمام پر کھولے چراغ زار مگر زور و شور جلتے گئے ہمیں بھی رات کی وادی کو پار کرنا تھا سو جس طرف کو گیا چاند ساتھ چلتے گئے کواڑ دل کا کھلا یاد یاد آپ آئے چراغ آنکھ میں شب قطرہ قطرہ جلتے گئے تمام عمر کٹی آہ و زاری میں آخر زمین بوس ہوئے درد درد جلتے گئے وہ اشک اشک مری آنکھ سے بہے شب بھر جدھر کو دریا گیا ملبے ساتھ بہتے گئے ہجوم شہر اکٹھا تھا زیر ہونے کو سو چشم اٹھتی گئی اور دم نکلتے گئے جو کشت جان پہ اترا تھا یاد کا موسم ستارے بام نظر کود کود مرتے گئے
safar ki khaak ko pairon se ham uDaate gae
مجھے عزیز بہت تھا جو ہم سخن میرا اسی نے پھینک دیا دھرتی پر گگن میرا میں خود کو دیکھ رہا ہوں بڑے تعجب سے پڑا ہوا ہے مرے سامنے بدن میرا اٹھا نہ پایا قدم باوجود کوشش کے مذاق اڑاتی رہی رات بھر تھکن میرا قریب تھا کہ مری روح تک جھلس جاتی قریب تھا کہ کوئی نوچتا بدن میرا ڈرے ڈرے ہیں سبھی پھول اس اندھیرے سے حصار شب میں مقید ہے یہ چمن میرا تری تلاش میں جب جسم تھک کے گرتا ہے خیال رہتا ہے پھر بھی یہ گامزن میرا پڑا ہوا ہے مرا جسم کب سے مٹی پر چلا گیا ہے کہاں جانے گورکن میرا تمہارے بعد رہا ہوں میں دھوپ چھاؤں میں نبود و بود میں جینا ہوا کٹھن میرا
mujhe aziiz bahut thaa jo ham-sukhan meraa
کچھ اس طرح کا عجب امتحان دینا پڑا مجھے زمیں کے عوض آسمان دینا پڑا تو جانتا ہی نہیں دين مصطفیٰ کیا ہے حسین جانے جسے خاندان دینا پڑا جو مجھ پہ اپنے ہی لشکر سے تیر آنے لگے عدو سے ہٹ کے محافظ پہ دھیان دینا پڑا سمٹ رہا تھا مرا سایہ دھوپ کے ڈر سے دہکتے سائے کو پھر سائبان دینا پڑا وہ جانتا ہے تری اک نظر کی قیمت کو کہ دل کے ساتھ جسے اک جہان دینا پڑا وہ بے نشان تھا لیکن مرے توسط سے پھر اپنے ہونے کا اس کو نشان دینا پڑا بھٹک رہا تھا ہتھیلی پہ لے کے اپنا شباب مجھے پھر اس کو یہ دل کا مکان دینا پڑا
kuchh is tarah kaa ajab imtihaan denaa paDaa
کچھ فائدے بھی ہوتے ہیں اجڑے مکان کے الفاظ اس میں گونجتے ہیں رفتگان کے اے چاند اس میں تیری بھی سازش ضرور ہے تارے کدھر گئے ہیں مرے آسمان کے اڑ جائے گا یقین کے پنجرے کو توڑ کر تھوڑے سے پر نکلنے دو وہم و گمان کے غزلیں مری بچا لو برے وقت کے لیے الفاظ بیچ ڈالنا مجھ بے زبان کے کربل کی ریت دیکھ کے اتنے تھے مطمئن جیسے کہ منتظر ہوں اسی امتحان کے اک بار میرے لفظوں کو پڑھ کر زبان سے کردار زندہ کر دو مری داستان کے اتنا اثر تو رکھتی ہے ماں کی دعا علیؔ دیکھے ہیں میں نے کھلتے کواڑ آسمان کے
kuchh faaede bhi hote hain ujDe makaan ke





