SHAWORDS
Alii Maan Azfar

Alii Maan Azfar

alii maan azfar

alii maan azfar

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اب تک جو دور ہے وہ ریاضت سفر میں ہے منزل قریب تر ہے مگر اک بھنور میں ہے دکھ درد عشق آس کا پرتو ہوں میں صنم آنسو خوشی جفا کا اثر مجھ شجر میں ہے یہ جو پنپ رہی ہے محبت دلوں میں یار یہ جسم کی طلب ہے جو ہر اک نگر میں ہے اس قدر بڑھ گئی ہے ہوس مرد میں کہ اب عزت کی فکر ہے تو طوائف کہ ڈر میں ہے یہ جھوٹ بولنا بھی نفاست کا کام ہے اور یہ ہنر فقط مرے مولا بشر میں ہے بچپن میں جس ضعیفہ کو دیکھا تھا چاند میں وہ اب بھی چرخہ کات رہی ہے قمر میں ہے ہر دور کے لٹیرے نے لوٹا ہے یہ وطن پر اس کو کیا خبر وہ ہماری خبر میں ہے

ab tak jo duur hai vo riyaazat safar mein hai

غزل · Ghazal

سچ کی حدت سے مات بہہ جائے جھوٹ تڑپے جہات بہہ جائے میں نچوڑوں جو اپنی آنکھوں کو یار یہ کائنات بہہ جائے عشق جب ہو سن بلوغت پر ڈر سے ہی سومنات بہہ جائے میرے اتنا قریب آ جاؤ ایک دوجے میں ذات بہہ جائے ہاتھ رکھنا یوں میرے دل پر تم دل کا سارا ثبات بہہ جائے دیکھ کر چاند سا حسیں چہرہ نوچ لے خود کو رات بہہ جائے زخم ہوں چشم داشت کے اذفرؔ خامشی سے حیات بہہ جائے

sach ki hiddat se maat bah jaae

غزل · Ghazal

جب بھی گلزار سے لہو نکلا اس کی تکرار سے لہو نکلا دیکھتے ہی مرے جنازے کو چشم اغیار سے لہو نکلا جب لگا مجھ پہ عشق کا بہتان میرے کردار سے لہو نکلا مدتوں بعد ڈایری کھولی سبھی اشعار سے لہو نکلا بوڑھا ہوتے ہی اڑ گئے پنچھی اور اشجار سے لہو نکلا مرنے پر اس شریر لڑکی کے یار اخبار سے لہو نکلا دیکھ کر تیری یاد میں روتا آج دیوار سے لہو نکلا الفتیں دیکھ کر علیؔ ان کی میرے انکار سے لہو نکلا

jab bhi gulzaar se lahu niklaa

غزل · Ghazal

خاک ہوں طور سمجھ اور جلا دے مجھ کو اے خدا اپنی تجلی کی ضیا دے مجھ کو مولا مجذوب من اللہ بنا دے مجھ کو عشق صادق کی یوں معراج کرا دے مجھ کو ایسی کوئی بھی نہ اے یار دعا دے مجھ کو مر ہی جاؤں کوئی ایسی تو سزا دے مجھ کو روز محشر تو ابھی دور ہے میرے اللہ کر کوئی معجزہ اور خود سے ملا دے مجھ کو نہیں کرنا ہے مجھے عشق مجازی کسی سے مولا عشق ازلی کرنا سکھا دے مجھ کو آج روتے ہوئے میں نے تو اسے کہہ دیا ہے کہ میں درویش صفت ہوں تو بھلا دے مجھ کو تنگ آنے لگا ہوں زندگی کی الجھنوں سے اپنی قدرت سے خدا راہ فنا دے مجھ کو درد احساس خوشی جیسی کوئی چیز نہ ہو تو ہی تو ہو بخدا ایسی فضا دے مجھ کو تیرا احساس جلاتا ہے مرا دامن یار بھول جاؤں تجھے توفیق خدا دے مجھ کو میری منزل کا پتہ پوچھتے ہیں مجھ سے لوگ کچھ تو کر ایسا تماشا ہی بنا دے مجھ کو

khaak huun tuur samajh aur jilaa de mujh ko

غزل · Ghazal

روٹھ کر اس نے جتایا بھی نہیں کیوں ہے وہ برہم بتایا بھی نہیں چل دیا وہ بزم ماتم چھوڑ کر حال دل اپنا سنایا بھی نہیں کیوں خزاں نے گھیر رکھی ہے بہار پنچھی کوئی چہچہایا بھی نہیں ان سے ملتے ہی میں پتھر ہو گیا ہاتھ پکڑا اور دبایا بھی نہیں اک عجب دوراہے پر آ پہنچا ہوں وہ نہیں اپنا پرایا بھی نہیں میری حالت خشک دریا جیسی تھی میں شجر تھا لڑکھڑایا بھی نہیں یہ محبت میں حیا کی بات ہے پاس سویا تھا جگایا بھی نہیں

ruuTh kar us ne jataayaa bhi nahin

غزل · Ghazal

ہجر کے غم میں کھا کے لاتا ہوں خواب اپنے منا کے لاتا ہوں سچ کی حدت سے کام لیتے ہو جھوٹ کو میں بلا کے لاتا ہوں کیا کہا چاند چاہیے بیٹھو آج وہ بھی چرا کے لاتا ہوں خواب میں جو وہ ساتھ ہوتی ہے اس کو دلہن بنا کے لاتا ہوں کیا تمہیں تحفہ چاہیے ٹھہرو ہاتھوں پر سر سجا کے لاتا ہوں عشق مجھ پر اثر نہیں کرتا روز اس کو گھما کے لاتا ہوں اس محبت پہ تم یقیں کر لو حکم سارے خدا کے لاتا ہوں ڈوب جاتا ہے کیوں یہاں ہر بار راز میں نا خدا کے لاتا ہوں کچھ اثر ہوتا ہی نہیں اس پر شعر کتنے بنا کے لاتا ہوں اپنے ہاتھوں سے سونپنا مجھ کو اپنے غم کو منا کے لاتا ہوں

hijr ke gham main khaa ke laataa huun

Similar Poets