Alizey Najaf
Alizey Najaf
Alizey Najaf
Ghazalغزل
جو لوگ سوچتے ہیں وہ شاید نہیں ہوں میں باہر نہیں ہوں خود کے ہی اندر کہیں ہوں میں رکھتی ہوں اپنے پاؤں زمیں پر سنبھال کے میں آسمان سے نہیں اہل زمیں ہوں میں کہتے ہیں لوگ اس کو یہاں اعتماد ذات اوروں کی تو خبر نہیں خود کا یقیں ہوں میں یہ ظرف ہی ہے جو کرے تعیین منزلت جو اشک تیرے پونچھ دے وہ آستیں ہوں میں میں دست بستہ مہر بہ لب ہو کے کیا کہوں اس بارگاہ عشق میں خستہ جبیں ہوں میں مہر و وفا خلوص ہے جس کی فضاؤں میں بے شک اسی دیار کی ادنیٰ مکیں ہوں میں
jo log sochte hain vo shaayad nahin huun main
محبت کا تقاضہ کیوں کریں ہم حقیقت کا تماشہ کیوں کریں ہم محبت جب کہ یک طرفہ نہیں ہے اکیلے ہی گزارہ کیوں کریں ہم خلش دل کی بڑھاتی ہیں جو باتیں انہی کا پھر اعادہ کیوں کریں ہم ہو جب احساس کا اظہار لازم پھر اس کو استعارہ کیوں کریں ہم جو حال زار سے سب کچھ عیاں ہو تو پھر کوئی اشارہ کیوں کریں ہم محبت سے عبارت ہوں سبھی پل کسی کا گوشوارہ کیوں کریں ہم سبھی کچھ درمیاں جب مشترک ہے تو میرا اور تمہارا کیوں کریں ہم
mohabbat kaa taqaaza kyon karein ham
قلب نالاں تری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں ظلمت شب ترے پہلو میں سحر ہے کہ نہیں شدت ضبط میں گزری ہے ترے ہجر کی شام اب ترے ساتھ مجھے اذن سفر ہے کہ نہیں ہے دھنک رنگ مرے جذبۂ دل کی تصویر تجھ میں احساس کوئی مثل گہر ہے کہ نہیں پوچھ لینا کبھی ان سے اے غریبان چمن کہ مرے حال پریشاں کی خبر ہے کہ نہیں کب تلک بیچ میں ہوں گے یہ پس و پیش بتا جستجو میری ترے پیش نظر ہے کہ نہیں تیرے دل کو ہے ابھی عذر محبت سے گریز فکر میں تیری کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں دل کو حسرت تری تائید نظر کی ہے فقط تیرے اندر کہیں طوفان شرر ہے کہ نہیں
qalb-e-naalaan tiri aahon mein asar hai ki nahin
تجھے دیکھیں نہ کیوں آشفتگی سے تجھے ہم سوچتے ہیں بے خودی سے ہوئی پامال نہ لفظوں کی حرمت نظر سب کہہ گئی ہے سادگی سے محبت کی عجب ہے کیمیائی سکوں پاتا ہے دل تشنہ لبی سے نہ سل تو چاک دل میرے رفوگر چھپا لیں گے اسے تیرہ شبی سے یہ ہے اعجاز تیرا اے محبت نہیں شکوہ ہمیں اب زندگی سے ترے آنے سے ٹوٹے سارے رشتے خلش سے کرب سے آزردگی سے
tujhe dekhein na kyon aashuftagi se
جز تیرے مرے پیش نظر کچھ بھی نہیں ہے تو ساتھ ہو پھر خوف و خطر کچھ بھی نہیں ہے اک کشف محبت سے بدل جاتا ہے کیا کچھ اب تاروں کی گردش کا اثر کچھ بھی نہیں ہے ہر روز نئے پہلو سے سمجھا کروں تجھ کو گم ایسی ہوں کہ خود کی خبر کچھ بھی نہیں ہے خوشبو کی طرح ان کہے احساس سمجھ تو حسرت ہے بہت کہنا مگر کچھ بھی نہیں ہے سب کچھ ہے تجھی سے اے خیابان محبت بن تیرے یہ عالم یہ نگر کچھ بھی نہیں ہے تو ہی غم دوراں میں قریب رگ جاں ہے مانجھی ہو جو تجھ سا تو بھنور کچھ بھی نہیں ہے اک تیرے ہی احساس سے مانوس ہے یہ دل احساس کا عنوان دگر کچھ بھی نہیں ہے
juz tere mire pesh-e-nazar kuchh bhi nahin hai
درد آخر کہاں سے اٹھتا ہے دل شوریدگاں سے اٹھتا ہے کر دے تو پاک بت سے کعبۂ دل دل نہ عشق بتاں سے اٹھتا ہے جس کو چن لے تری یہ چشم ناز کب ترے آستاں سے اٹھتا ہے یہ محبت ہے راز سر بستہ وجد آشفتگاں سے اٹھتا ہے کر عطا مجھ کو اب یقیں کامل شک سا حرف گماں سے اٹھتا ہے
dard aakhir kahaan se uThtaa hai





