
Alka Sharar
Alka Sharar
Alka Sharar
Ghazalغزل
ادھورے خواب پورے ہوں یہ دل میں غم نہیں رکھتی پرانے زخم پر اپنے نیا مرہم نہیں رکھتی نہ دنیا مختصر ہے یہ نہ ہی لکشمن کی ریکھا ہے زمیں سے آسماں تک میں اڑانیں کم نہیں رکھتی سجا کر خواب تیرا جب سے اپنی آنکھوں میں رکھا پلک کی پنکھڑی کو میں تبھی سے نم نہیں رکھتی ہو ساون یا کہ پت جھڑ ہو سبھی کا خیر مقدم ہے میں شہر دل میں اپنے ایک سا موسم نہیں رکھتی
adhure khvaab puure hon ye dil mein gham nahin rakhti
زخم دل کا نہ جب دکھے کوئی کیسے ان کو رفو کرے کوئی دل کی فطرت ہے ٹوٹنا لیکن بکھرے ملبے کا کیا کرے کوئی دل میں الفت کے غم مکیں ہیں ابھی مجھ میں آخر کہاں رہے کوئی نیند روٹھی ہے خواب روٹھے ہیں ایسے تنہا بھی کیا جگے کوئی ریت سی جھڑ رہی ہے آنکھوں سے بن کے آنسو چھلک اٹھے کوئی روٹھ جاتے ہیں جن پہ وہ اکثر ایسی باتوں پہ کیا لڑے کوئی ساتھ دیتی نہیں ہے بینائی کس طرح راستہ تکے کوئی جس کی فطرت ہی صرف کہنا ہے کیا کہے اس سے کیا سنے کوئی
zakhm dil kaa na jab dikhe koi
ذرا سی ٹھہری ہے رات مجھ میں ذرا سا سورج نکل رہا ہے کہیں تو مجھ میں دبی ہے الفت تبھی مرا دل بدل رہا ہے چراغ باتی کے جیسے تھے ہم لگے ہیں میلوں کی دوریاں اب ملی نہ مجھ کو بھی کوئی تسکیں ادھر وہ پہلو بدل رہا ہے اٹھا کے کیا دیکھتے ہو ان کو حروف تک میں جلا چکی ہوں اسی ورق پر ہے راکھ پھیلی ترا فسانہ جو جل رہا ہے کیا ہیں زخموں نے شور اتنا تمام شب کروٹوں میں بیتی ملی سویرے جو حادثوں سے ذرا یہ دل پھر سنبھل رہا ہے اسے بنانے تھے چاند تارے تو آسماں کا کیا تصور مرا ہی آنچل مرا ہی چہرہ کیوں اس کے رنگوں میں ڈھل رہا ہے
zaraa si Thahri hai raat mujh mein zaraa saa suraj nikal rahaa hai
زباں سے کچھ مری بے اختیار نکلا ہے تبھی تو لفظوں میں دل کا غبار نکلا ہے تمہارے پھولوں نے زخمی کئے ہیں ہاتھ مرے ہر ایک پھول میں پوشیدہ خار نکلا ہے گئے تھے عشق کے آداب سیکھنے جن سے انہیں کی باتوں سے دل تار تار نکلا ہے وہ سنتے سنتے مری داستان رونے لگا مرا رفیق دل بے قرار نکلا ہے اداس اداس ہیں کلیاں گلوں پہ ماتم ہے ابھی یہاں سے ہجوم بہار نکلا ہے نقاب کی جو وکالت ہمیشہ کرتا تھا اسی کا چہرہ شررؔ داغدار نکلا ہے
zabaan se kuchh miri be-ikhtiyaar niklaa hai
ہر قدم وقت کی ٹھوکر کے علاوہ کیا ہے زندگی خوابوں کے منظر کے علاوہ کیا ہے مجھ سے زخموں کا مداوا بھی کرانا ہے مگر حیثیت میری رفو گر کے علاوہ کیا ہے تاج و دستار مبارک ہو تمہارے سر کو میرے سر کے لیے پتھر کے علاوہ کیا ہے تم تو اس شہر کو کہتے تھے محبت کا نگر اب کھنڈر ہو چکے منظر کے علاوہ کیا ہے اب تلک رستا ہے یہ خون مرے کانوں سے آپ کی گفتگو نشتر کے علاوہ کیا ہے جان لیتا نہیں جینے بھی نہیں دیتا مجھے عشق ٹوٹے ہوئے خنجر کے علاوہ کیا ہے
har qadam vaqt ki Thokar ke 'alaava kyaa hai





