All Imran
غم تیرا مجھے جاں سے گزرنے نہیں دیتا مرنا بھی اگر چاہوں تو مرنے نہیں دیتا اک بوند بھی پایاب نظر آتی ہے اب تو یہ ڈر مجھے دریا میں اترنے نہیں دیتا حالات پہ موقوف نہیں اپنی تباہی قسمت کا لکھا بھی تو سنورنے نہیں دیتا پھولوں سے وہ ہر صبح اڑا لیتا ہے سرخی بے رنگ کلی کو بھی نکھرنے نہیں دیتا مرہم جسے سمجھا تھا زمانے کی نظر نے بھرتے ہوئے زخموں کو بھی بھرنے نہیں دیتا ہر راہ کو وہ سانپ کی مانند ہے گھیرے وہ راہ گزر سے بھی گزرنے نہیں دیتا عمرانؔ میں اک عمر سے پتھر کی طرح ہوں خوشبو کی طرح مجھ کو بکھرنے نہیں دیتا
gham teraa mujhe jaan se guzarne nahin detaa