A
Altaf Khaleeqi
Altaf Khaleeqi
Altaf Khaleeqi
poet
2Ghazal
Ghazalغزل
غزل · Ghazal
وہ جو ہم سے خفا ہو گیا درد دل کا سوا ہو گیا اس کا جب سامنا ہو گیا ساز دل بے صدا ہو گیا ہم نشیں عہد نو میں نہ پوچھ آدمی کیا تھا کیا ہو گیا دھوم ہے میکدے میں بہت رند اک پارسا ہو گیا کہتے ہیں لوگ الطافؔ بھی شاعر خوش نوا ہو گیا
vo jo ham se khafaa ho gayaa
غزل · Ghazal
خدا کرے یہ محبت نہ راس آئے مجھے میں جس کو چاہوں نظر سے وہی گرائے مجھے یہ آرزو ہے یہ دن بھی خدا دکھائے مجھے جو مجھ کو بھول گیا ہے وہ خود بلائے مجھے وفا کی جنس زمانے میں ہے مری ہستی جسے ہو شوق وفا کا خرید لائے مجھے رہ وفا میں ہر اک نقش پا یہ کہتا ہے بنا سکے تو کوئی رہنما بنائے مجھے
khudaa kare ye mohabbat na raas aae mujhe





