SHAWORDS
Altaf Kishtwari

Altaf Kishtwari

Altaf kishtwari

Altaf kishtwari

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

تو نے مجھ کو جی لیا یہ کیا ہوا تو تو تھی میری سزا یہ کیا ہوا اس کو میرے چاک دامن تھے پسند تو نے کیونکر سی لیا یہ کیا ہوا میری قسمت کی تھیں وہ ناکامیاں اشک جو تو نے پیا یہ کیا ہوا یاد آؤں گا جو پلٹو گے ورق دکھ کو خوشیوں میں جیا یہ کیا ہوا ہجر کا دامن ٹھٹھرتا برف تھا کانگڑی میں وہ جلا یہ کیا ہوا تجھ کو تھا معلوم رہزن ہے وہاں لٹ چکا ہے قافلہ یہ کیا ہوا کیسی ہے مہتاب تیری روشنی گھر ہی کرنوں سے جلا یہ کیا ہوا مدتوں سے نامہ لائی تھی ہوا گھر پہ تالا تھا پڑا یہ کیا ہوا تو نے بھی چھو ہی لیا اس کا بدن ہجر میں ہی تھا مزا یہ کیا ہوا زندگی کے درد و غم کا واقعہ داستانوں میں ڈھلا یہ کیا ہوا

tu ne mujh ko ji liyaa ye kyaa huaa

غزل · Ghazal

مرے قاتل میں تجھے چاہوں گا ڈالر کی طرح تجھ پہ لکھوں گا قصیدے کسی شاعر کی طرح مری پہچان شفق رنگ بنے گی تیری تجھ کو چاہوں گا بصد شوق میں احمر کی طرح کھیت ویران رہیں میرے کہ بنجر اب کے ڈھونڈ لوں گا تری دولت کو میں زر گر کی طرح جشن کر لیں گے بپا جیت کا گو ہار ہی ہو بوٹیاں نوچیں‌ گے ہم بھی کسی برگر کی طرح ہم تری چاہ میں رکھ لیں گے جبیں پر سورج وہ نگل لیں ہمیں چاہے کسی اژدر کی طرح ہم بھی ہو جائیں تنو مند تری دنیا میں کیوں پھریں ہم بھی زمانے میں یہ لاغر کی طرح دور کوئی بھی نہیں رہتا ہے قائم ہر دم پردہ سیمیں سے مٹیں گے سبھی منظر کی طرح

mire qaatil main tujhe chaahungaa dollar ki tarah

غزل · Ghazal

گھر گھر صدا دی کی ہے گدائی ترے لئے ایسے بھی ہم نے سہہ لی جدائی ترے لئے موجود سب رہیں گے یہی نام اب یہاں پتھر پہ کی ہے میں نے کھدائی ترے لئے فرہاد اور ہی تھا ترے اشک میں نہاں سانسوں کی ہم نے کر دی وداعی ترے لئے سمجھو گے جب اڑے گی مری خاک قبر سے کیوں عشق میں کی جان فدائی ترے لئے تم نے ہی راستوں میں بہت موڑ رکھ دئے کب کی تھی ہم نے شوخ ادائی ترے لئے جس حرف میں چھپی تھی ترے حسن کی رمق وہ لفظ کی ضیا تھی ردائی ترے لئے الطافؔ اس کو مانگ کے دیکھا ہے شوق سے کر لے گا کون روز گدائی ترے لئے

ghar ghar sadaa di ki hai gadaai tire liye

غزل · Ghazal

ٹوٹا تھا آسمان سے تارا کہاں گیا ڈھونڈا بہت اسے وہ بچارہ کہاں گیا اس نے کہا تھا سحر نصیبوں میں ہے ترے پلکوں یہ صبح کا تھا ستارا کہاں گیا صدیوں کے اس مکاں میں بہت دیر تک رہا مجھ میں جو تھا وہ صرف تمہارا کہاں گیا بیتے دنوں کی راکھ ابھی تک ہے گرم تر شعلہ دیا تھا اس میں ہمارا کہاں گیا بیٹھے تھے جس دکاں کے تھڑے پر تمام عمر اب دیکھتے ہیں اس کا سہارا کہاں گیا دیتا تھا جو صدا در ہجراں پہ رات بھر گلیوں میں پھر رہا تھا جو مارا کہاں گیا اٹھا ہے دھڑکنوں کا عجب شور بے پناہ وہ آس پاس تھا جو ہمارا کہاں گیا الطافؔ شہر گھوم کے آیا ہوں آج پھر وہ لوگ ہیں کہاں وہ شکارا کہاں گیا

TuuTaa thaa aasmaan se taaraa kahaan gayaa

غزل · Ghazal

میں ترے پیار میں کھویا ہوا پاگل ہوتا یا تری جھیل سی آنکھوں كا اگر جل ہوتا ان میں ہوتی مری صورت کبھی پھولوں کی مہک عکس ہوتا کبھی پانی کبھی کاجل ہوتا میں بناتا تجھے اک نخل گلستاں اپنا سایہ ہوتا ترے صحرا کا میں بادل ہوتا کھل اٹھے ہوتے مرے سینے میں وہ سرو سمن باغ ہوتا میں ترے گاؤں کا جنگل ہوتا ڈھال بنتا میں زمانے کی ہوا سے تیری تری چادر کبھی بنتا کبھی آنچل ہوتا کبھی در پر کبھی رستے کبھی من میں تیرے گھپ اندھیروں میں ترے واسطے مشعل ہوتا تری خاطر ترا الطافؔ بکھرتا ہر سو تری خوشبو کے لئے کاش میں صندل ہوتا

main tire pyaar mein khoyaa huaa paagal hotaa

غزل · Ghazal

ہے دشت زندگی یہ فنا تم صدا نہ دو ہو جاؤں گا میں اب کے جدا تم صدا نہ دو پھر لوٹ کر نہ آؤں گا بازار میں کبھی بولی کوئی لگا کے گیا تم صدا نہ دو ہو جائے گا یہ نام دھواں روئے گی ہوا سورج ہے میرے سر پہ کھڑا تم صدا نہ دو وہ پتھروں کو بولنے کی دے گیا ادا لب پر اسی کی اب ہے ثنا تم صدا نہ دو تاریک شب ہے آسماں میں کھلبلی سی ہے گونجے ہے روتے سگ کی صدا تم صدا نہ دو ٹھہرو وہ آ گیا ہے مرے روبرو یہاں آئینے میں کوئی ہے کھڑا تم صدا نہ دو شاید فضاؤں میں ہے سحر کی اذاں کہیں الطافؔ اسی کی ہے یہ ندا تم صدا نہ ہے دو

hai dasht-e-zindagi ye fanaa tum sadaa na do

Similar Poets