Altaf Tanveer
Altaf Tanveer
Altaf Tanveer
Ghazalغزل
گرتے رہتے ہیں پھر سنبھلتے ہیں پھر اسی راستے پہ چلتے ہیں جلتے ہیں آگ میں بدن لیکن دل فقط عشق ہی میں جلتے ہیں ایک مدت سے دل کے مندر میں کچھ امیدوں کے دیپ جلتے ہیں رزق دینا اسی کی قدرت ہے پتھروں میں بھی کیڑے پلتے ہیں موم کی طرح دل بھی پتھر کے وقت کی دھوپ میں پگھلتے ہیں صرف حالات ہی نہیں پیارے ہاں خیالات بھی بدلتے ہیں کوئی خاموش بھی رہے کتنا دل میں جذبات تو مچلتے ہیں مکر تنویر جس کا شیوہ ہے ایسی دنیا سے دور چلتے ہیں
girte rahte hain phir sambhalte hain
2 views
لکیروں میں کہیں اجداد کا پیسہ نہیں ہوتا غریبوں کا نصیبہ ہاتھ پہ لکھا نہیں ہوتا یہ اہل زر غریبوں کو کبھی جینے نہیں دیتے اگرچہ اس نے سب کو ایک سا دیکھا نہیں ہوتا یہ کشکول گدائی ہے فقط معذور کو زیبا کبھی محنت کشوں کے ہاتھ میں کاسہ نہیں ہوتا وہ چاہے جیسی بھی ہو ماں کی ممتا کم نہیں ہوتی بھلے ہی آج کل بیٹا ہر اک ماں کا نہیں ہوتا وراثت بانٹ لیتے ہیں جو بچے اپنے حصے کی کمائی سب ہے جن کی ان کا ہی حصہ نہیں ہوتا بھلے تنویرؔ عمدہ کھانا قسمت میں نہ ہو اس کی کسی مفلس کا بچہ بھی کبھی بھوکا نہیں ہوتا
lakiron mein kahin ajdaad ka paisa nahin hotaa
2 views
بے بسوں پہ یتیموں پہ ہنستی رہی فقرے بے کس پہ دنیا یہ کستی رہی کچھ بھی دنیا میں اس کا تو اپنا نہیں پھر بھی کیوں جان دنیا میں پھنستی رہی چاہی جو نعمتیں تم وہ کھاتے رہے بوڑھی ماں دیکھ کر ہی ترستی رہی میں بلندی کی پرواز کرتا رہا جو رہی میری منزل سو پستی رہی شکر ہر حال میں کیوں نہ کرتا بھلا آزمائش مری تنگ دستی رہی عمر بھر زندگی کو میں روتا رہا عمر بھر زندگی مجھ پہ ہنستی رہی ایک سو برہمی ایک جانب خوشی دل کے جو پاس تھی دل میں بستی رہی بعد رخصت کے تنویرؔ یہ چشم نم کیوں اسے دیکھنے کو ترستی رہی
be-bason pe yatimon pe hansti rahi
بات ایسی سنا گیا کوئی ہنستے ہنستے رلا گیا کوئی جیسے دنیا ہی لٹ گئی اپنی دل کے مسکن سے کیا گیا کوئی آنکھوں آنکھوں میں کچھ خموشی میں حال دل کا سنا گیا کوئی کیا ہی سستا کھلونا تھا یہ دل کھیلا توڑا چلا گیا کوئی سارے نظارے ہو گئے اوجھل یوں نظر میں سما گیا کوئی میرے شعروں کی ترجمانی سی اک حکایت سنا گیا کوئی سب یہاں سے گئے مگر تنویرؔ ہیں کہاں یہ بتا گیا کوئی
baat aisi sunaa gayaa koi





