
Altamash Shams
Altamash Shams
Altamash Shams
Ghazalغزل
تا قیامت نہیں زوال ہمیں اس نے بخشا ہے وہ کمال ہمیں ہم کہ روشن کتاب والے ہیں پوچھئے کوئی بھی سوال ہمیں گردش وقت اپنے کل کی سوچ اس قدر کر نہ پائمال ہمیں ہم ترے عہد کی امانت ہیں اپنے سینے میں رکھ سنبھال ہمیں ایک بے رنگ کتاب کی صورت میز پر یوں نہ تو اچھال ہمیں چاند تاروں نے آسماں سے کہا آمد شمس ہے سنبھال ہمیں
taa-qayaamat nahin zavaal hamein
چلو ہم میں وفاداری نہیں ہے مگر کیا تم میں غداری نہیں ہے تمہارا جھک کے ملنا ہر کسی سے بتاؤ کیا اداکاری نہیں ہے کوئی منصف مجھے کیونکر ملے گا مرا انداز درباری نہیں ہے بڑا ہی نیک ہے وہ پارسا بھی فقط اس میں ملن ساری نہیں ہے حقارت سے زمانہ دیکھتا ہے وجہ یہ ہے کہ سرداری نہیں ہے کھلے دل کا ہے سچ کہتا ہے اکثر ذرا بھی اس میں ہشیاری نہیں ہے چمکنے دو ستاروں کو فلک پر ابھی تو شمسؔ کی باری نہیں ہے
chalo ham mein vafaadaari nahin hai
ایک ہم سخاوت میں گھر کا گھر لٹا بیٹھے ایک وہ خیانت سے اپنا گھر سجا بیٹھے روشنی کا ذمہ جو اپنے سر لیا ہم نے اور کچھ نہ سوجھا تو اپنا گھر جلا بیٹھے اپنے ہار جانے کا غم نہیں ذرا مجھ کو غم ہے میرے اپنے بھی دشمنوں میں جا بیٹھے کس قدر بھروسہ تھا ان کو ذات اقدس پر یوں ہی تھوڑی اپنی وہ کشتیاں جلا بیٹھے کل جو ہنس کے ملتے تھے منہ چھپائے پھرتے ہیں شمسؔ آپ کیوں ان کو آئینہ دکھا بیٹھے
ek ham sakhaavat mein ghar ka ghar luTaa baiThe





