SHAWORDS
Amar Ruhani

Amar Ruhani

Amar Ruhani

Amar Ruhani

poet
21Ghazal

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

بدل اپنی ذرا گفتار پگلے غلط ہے مستقل تکرار پگلے طلسماتی قلم نے سحر پھونکا کہانی میں ہوئے کردار پگلے اٹے ہیں تاروں کی مٹی سے پاؤں فلک کے بھی ہیں واقف کار پگلے بنائیں اور کس کو رازداں ہم ہو جب چاروں طرف دیوار پگلے خیال و خواب کے لاشے پڑے ہیں سمجھتے ہو جنہیں اشعار پگلے اسے کھو کر ذرا پگلا گئے ہیں وگرنہ ہم بھی تھے ہشیار پگلے پڑی ہے پاؤں جو مکار دنیا گلے کو آئے گی دھتکار پگلے سمجھتے ہیں اداکاری جنوں کو خرد مندی کے دعویدار پگلے امرؔ ان کی ہیں کیفیات یکساں قلندر فلسفی مے خوار پگلے

badal apni zaraa guftaar pagle

غزل · Ghazal

گہے شعلہ گہے شبنم نمی دانم نمی دانم مزاج کاکل برہم نمی دانم نمی دانم نکھرتا ہے بروں جس سے سنورتا ہے دروں جس سے سبو ہے یا کوئی زمزم نمی دانم نمی دانم بلاتی ہے کوئی پائل کہ ہے زنجیر کا نالہ یہ جو آواز ہے چھم چھم نمی دانم نمی دانم یہ سینہ ہو گیا ہے اس قدر مخمور تیروں سے کہاں گھاؤ کہاں مرہم نمی دانم نمی دانم مجھے لڑنا ہے خود سے آخری سانسوں کی مہلت تک رہے گا کب تلک دم خم نمی دانم نمی دانم خودی کا راز پا کر ہو گیا ہوں خود سے ناواقف چہ من ہستم چہ من بودم نمی دانم نمی دانم امرؔ ہم تم زمین و آسماں دریا کے دو ساحل ملیں گے حشر میں باہم نمی دانم نمی دانم

gahe sho'la gahe shabnam nami-daanam nami-daanam

غزل · Ghazal

پرتو عکاس تھا وہ میں نہ تھا آئنوں کو راس تھا وہ میں نہ تھا میری پرچھائیں جسے سمجھے تھے لوگ کوئی میرے پاس تھا وہ میں نہ تھا جو سپرد خاک کر آئے ہو تم ہڈیاں تھیں ماس تھا وہ میں نہ تھا کہکشاں پر جس کے نقش پا ملے وہ مرا احساس تھا وہ میں نہ تھا کھو گیا ہوں اپنے قصے میں کہیں زینت قرطاس تھا وہ میں نہ تھا پا برہنہ زندگی کی رہ پہ ہوں صاحب افراس تھا وہ میں نہ تھا

partav-e-'akkaas thaa vo main na thaa

غزل · Ghazal

ضبط کی ڈور سے بندھی ہیں فقط وہ پتنگیں ہی کیوں کٹی ہیں فقط عشق وہ نار جاوداں جس میں جسم کی لکڑیاں جلی ہیں فقط زندگی کے مہیب زنداں میں موت کی کھڑکیاں کھلی ہیں فقط مبتلا ہیں عذاب میں آنکھیں تیرگی میں ہی دیکھتی ہیں فقط کوئی تجہیز ہی نہیں ممکن اتنی سانسیں ہمیں ملی ہیں فقط جسم و جاں کے نحیف ملبے میں چند یادیں تری بچی ہیں فقط کیا ہے شام و سحر کا افسانہ روشنی تیرگی ملی ہیں فقط کیسے تعمیر خال و خد ہو امرؔ چاک پر گردشیں دھری ہیں فقط

zabt ki Dor se bandhi hain faqat

غزل · Ghazal

اہل پیمان و قسم کون ہے ہم جانتے ہیں تیرے کعبے کا صنم کون ہے ہم جانتے ہیں یہ خداؤں کی نہیں جنگ ہے انسانوں کی مالک دیر و حرم کون ہے ہم جانتے ہیں طاق میں رکھے بتوں نے بھی یہ سرگوشی کی خالق بود و عدم کون ہے ہم جانتے ہیں یہ مکافات عمل حیلہ وسیلہ برحق راقم لوح و قلم کون ہے ہم جانتے ہیں خود ہی کھل جاتے ہیں الفاظ کے معنی جس پر خوگر نطق عجم کون ہے ہم جانتے ہیں ساقیا کچھ بھی نہیں رنگ بھرے پانی میں بادہ خانے کا بھرم کون ہے ہم جانتے ہیں لذت تن ہے گراں دل کی لطافت پہ امرؔ چارۂ درد و الم کون ہے ہم جانتے ہیں

ahl-e-paimaan-o-qasam kaun hai ham jaante hain

غزل · Ghazal

چشم دل گیر منتظر ہے مری پھر کوئی ہیر منتظر ہے مری شام تک گھر کو لوٹنا ہے مجھے اس کی تصویر منتظر ہے مری پھر بکھرنے کو ہیں عناصر جاں ضرب و تکسیر منتظر ہے مری چھن چھنا چھن کی آ رہی ہے صدا کوئی زنجیر منتظر ہے مری لے چلو مجھ کو سوئے دار و رسن رسم توقیر منتظر ہے مری شوق آوارگی سلام تجھے راہ تعمیر منتظر ہے مری آئنے مجھ کو ڈھونڈتے ہیں امرؔ تزک و تطہیر منتظر ہے مری

chashm-e-dil-gir muntazir hai miri

Similar Poets