
Amatul Hai Wafa
Amatul Hai Wafa
Amatul Hai Wafa
Ghazalغزل
بے چین یہ دل ہے ترے دیدار کی خاطر ٹھکرا دیا دنیا کو ترے پیار کی خاطر آنکھوں میں ہے دم حسرت دیدار کی خاطر کچھ دیر کو آ جائیے بیمار کی خاطر جب تاج محل بن گیا کٹوائے گئے ہاتھ اک شاہ نے کی یوں فن معمار کی خاطر ہم جان بھی دے دیں جو اشارہ ہو ادھر سے منظور ہر اک ظلم ہے دل دار کی خاطر قسمت مری کٹیا کی جگا جائیں کسی دن آنکھیں ہیں بچھائی ہوئی سرکار کی خاطر ہم تشنہ بہ لب ساحل دریا سے چلے آئے یہ کرب بھی جھیلا دل خوددار کی خاطر محنت بھی مشقت بھی کروں کیوں نہ وفاؔ میں ہے فرض مرا اپنے پریوار کی خاطر
bechain ye dil hai tire didaar ki khaatir
اچھے انسان خواب جیسے ہیں ایک اچھوتی کتاب جیسے ہیں کہنے دیجے مجھے کے ماں ہوں میں میرے بچے گلاب جیسے ہیں میری خوش فہمیوں کے تاج محل میرے عہد شباب جیسے ہیں اے صبا دیکھ دل کے کوچے میں کون خانہ خراب جیسے ہیں شعر و نغمہ مصوری شو بز شوق سارے شراب جیسے ہیں جتنے ناکام ہیں محبت میں وہ بھی سب کامیاب جیسے ہیں اے وفاؔ چوم نونہالوں کو ان کے چہرے گلاب جیسے ہیں
achchhe insaan khvaab jaise hain
عشق کی کوئی انتہا ہی نہیں اس مرض کی کوئی دوا ہی نہیں آئے دیکھا مجھے ہنسے اور پھر چل دئے کچھ کہا سنا ہی نہیں اس سے نظریں ملیں تھیں پل بھر کو دل کہاں کھو گیا پتہ ہی نہیں میں نظر میں بسی ہوں مان بھی لو آئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں اس کو ضد ہے کہ اب نہیں ملنا دل ہے پاگل کے مانتا ہی نہیں مجھ سے مجھ کو چرا کے لے جاتا پہلے تم سا کوئی ملا ہی نہیں کتنے دن ہو گئے کہ فون ترا کان میں شہد گھولتا ہی نہیں رات اک اجنبی ملا تھا وفاؔ نیند پھر کیا ہوئی پتہ ہی نہیں
ishq ki koi intihaa hi nahin
مرے ہزار غموں کا حساب کون لکھے میں اک کہانی ہوں مجھ پر کتاب کون لکھے گناہ لکھتے رہے میری آہ کو لیکن جو اشک دل میں ہیں ان کو ثواب کون لکھے تمہاری یاد نہیں اک عذاب ہے گویا مگر تمہارے کرم کو عذاب کون لکھے ہم اپنے زخم جگر کو چھپائے بیٹھے ہیں تمہارے چہرے کو تازہ گلاب کون لکھے مرا قلم تو مرا ساتھ چھوڑ بیٹھا ہے کتاب دل کا مری انتساب کون لکھے سبھی کو پیاری ہے جاں اپنی ایک میرے سوا ستم ستم کو تمہارے جناب کون لکھے میں اپنے خط بھی خود ان کی طرف سے لکھتی ہوں وفا کو چھوڑیئے اس کا جواب کون لکھے
mire hazaar ghamon kaa hisaab kaun likhe
نہ مشک بو ہے نہ ہے زعفران کی خوشبو حریم جاں میں ہے اک مہربان کی خوشبو میں دیکھتی ہی نہیں خواب اونچے محلوں کے مجھے پسند ہے کچے مکان کی خوشبو اسی زمین میں اک دن پناہ لینی ہے کہ اس زمین میں ہے آسمان کی خوشبو کہیں بھی جاؤں مرے ساتھ ساتھ رہتی ہے کسی کی یاد کسی کے دھیان کی خوشبو مرے گلاب سے چہرے پہ کیا کہوں کیسے بہار نو ہے مرے خاندان کی خوشبو کسی سے ملنے کے بعد آ گیا یقیں مجھ کو دلوں کو چھوتی ہے میٹھی زبان کی خوشبو پکارا جب بھی کسی نے مجھے وفا کہہ کر بدل گئی ہے یقیں میں گمان کی خوشبو
na mushk-bu hai na hai zaafraan ki khushbu
جسے محبوب خود داری بہت ہے اسے جینے میں دشواری بہت ہے یوں ہی اجڑا ہوا رہنے دو مجھ کو سنورنا دل پہ اب بھاری بہت ہے نہ جائے کوچۂ مہر و وفا میں وہ جس کو زندگی پیاری بہت ہے بہت تڑپا لیا اب آ بھی جاؤ طبیعت درد سے بھاری بہت ہے چل اے دل اک نئی دنیا بسائیں یہاں نفرت کی بیماری بہت ہے کسی کو کیا بنائیں جان اپنی ہمیں خود سے بھی بے زاری بہت ہے تلا ہے سچ کلامی پر وفا دل کہ شانوں پر یہ سر بھاری بہت ہے
jise mahbub khud-daari bahut hai





