
Ameen Adirai
Ameen Adirai
Ameen Adirai
Ghazalغزل
rakh diyaa main ne dar-e-husn pe haaraa huaa ishq
رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق آج کے بعد مری جان تمہارا ہوا عشق چوٹ گہری تھی مگر پاؤں نہیں رک پائے ہم پلٹ آئے وہیں ہم کو دوبارہ ہوا عشق جھلملاتا ہے مری آنکھ میں آنسو بن کر آ گیا راس مجھے دل میں اتارا ہوا عشق سکۂ وقت بدلتے ہی سبھی چھوڑ گئے ذات کے شہر میں اک عمر سہارا ہوا عشق جب بھی ہوتی ہے در خواب پہ دستک کوئی جاگ جاتا ہے ترے ہجر کا مارا ہوا عشق میری آنکھوں سے ٹپکتا ہے لہو بن کے امینؔ تیری گلیوں میں شب و روز گزارا ہوا عشق
maar detaa mujhe miTaa detaa
مار دیتا مجھے مٹا دیتا اس سے بڑھ کر وہ کیا سزا دیتا شرط ہوتی اگر وفا کی یہی قطرہ قطرہ میں خوں بہا دیتا پھول ہوتا تو بانٹتا خوشبو میں تو کانٹا تھا تجھ کو کیا دیتا باندھ لیتا جو پاؤں میں گھنگرو ساری دنیا کو میں نچا دیتا میں نہ گر روکتا تو وہ پاگل اپنے ہاتھوں سے گھر جلا دیتا جھانک لیتا جو میرے دل میں امینؔ میرا دشمن مجھے دعا دیتا
raah-e-dushvaar apni had mein rah
راہ دشوار اپنی حد میں رہ دیکھ اس بار اپنی حد میں رہ تو نہیں جیت پائے گا مجھ سے اے غم یار اپنی حد میں رہ خون سر پر سوار ہے میرے آج دیوار اپنی حد میں رہ میں بھی اپنی حدوں کا قائل ہوں تو بھی دل دار اپنی حد میں رہ میں نے بیچی نہیں انا اپنی اے خریدار اپنی حد میں رہ اک پیادہ ہے تو بھی دیکھ امینؔ پھینک تلوار اپنی حد میں رہ
ik ashk sar-e-shokhi-e-rukhsaar mein gum hai
اک اشک سر شوخیٔ رخسار میں گم ہے آئینہ بھی اس حسن کے اسرار میں گم ہے کوئی تو زمیں زر کا پجاری ہے مرے دوست اور کوئی یہاں اپنے ہی گھر بار میں گم ہے اپنوں کے رویوں نے جسے توڑ دیا تھا وہ شخص کسی محفل اغیار میں گم ہے پایا تو سکھا دے گا مجھے شعلہ بیانی وہ حرف جو اس سینۂ کہسار میں غم ہے کہتا ہے ترے سر کی سفیدی میں چھپا دکھ اک شہر بتاں وقت کی دیوار میں گم ہے کچھ درد نمایاں ہے کہانی میں امینؔ اور کچھ درد ابھی دست قلمکار میں گم ہے
us ne jo gham kiye havaale the
اس نے جو غم کیے حوالے تھے ہم نے اک عمر وہ سنبھالے تھے صحن دل میں تمہارے سب وعدے میں نے بچوں کی طرح پالے تھے آنکھ سے خود بہ خود نکل آئے اشک ہم نے کہاں نکالے تھے اک خوشی ایسے مسکرائی تھی درد جیسے بچھڑنے والے تھے اپنے ہاتھوں سے جو بنائے بت ایک دن سارے توڑ ڈالے تھے چار سو وحشتوں کا ڈیرا تھا جان کے ہر کسی کو لالے تھے اجنبی بن کے جو ملے تھے امینؔ لوگ سب میرے دیکھے بھالے تھے
kashkol-e-jaan se sikka-e-nafrat nikaal kar
کشکول جاں سے سکۂ نفرت نکال کر اے دوست پھر سے آ کے مراسم بحال کر چاہا تھا عمر بھر تجھے پل میں بھلا دیا تو نے ہی تو کہا تھا کہ کوئی کمال کر یہ درد کا سفر ہے بہت دور جائے گا عمر رواں ابھی سے نہ مجھ کو نڈھال کر دنیا کو کیا خبر کہ گزرتی ہے ہم پہ کیا لکھتے ہیں شعر اپنے لہو کو ابال کر اس شہر کا تو ہے یہی دستور زندگی بس خامشی سے دیکھ نہ کوئی سوال کر مانا کہ شاعری ہے اثاثہ ترا امینؔ گھر کی ضروریات کا کچھ تو خیال کر





