Ameen Asar
Ameen Asar
Ameen Asar
Ghazalغزل
بڑی ٹھنڈی پون ہے تم کہاں ہو سلگتا تن بدن ہے تم کہاں ہو گلوں سے نکہتیں روٹھی ہوئی ہیں بڑا ویراں چمن ہے تم کہاں ہو بہاروں میں یوں تنہا چھوڑ دینا تمہارا حسن ظن ہے تم کہاں ہو بجھائے کون اب اس تشنگی کو سرابوں میں ہرن ہے تم کہاں ہو تھمی جاتی ہیں دل کی دھڑکنیں بھی نفس میں بھی گھٹن ہے تم کہاں ہو
baDi ThanDi pavan hai tum kahaan ho
چین ملتا کہاں ہے ستائے بغیر باز آتے نہیں وہ رلائے بغیر تیرگی کب مٹی ہے مٹائے بغیر روشنی کب ہوئی دل جلائے بغیر ایک وعدہ وفا نہ کیا آپ نے خواب میں روز آئے بلائے بغیر دینی پڑتی ہے قربانیاں ہر قدم رشتے نبھتے نہیں ہیں نبھائے بغیر تم بلاؤ گے تو سر کے بل آئیں گے گھر خدا کے نہ جائیں بلائے بغیر اس طرح گفتگو ان کی آنکھوں نے کی لفظ ہی مر گئے کچھ بتائے بغیر سانحہ نہ کہیں تو کہیں کیا اثرؔ چل دئے زندگی سے بتائے بغیر
chain miltaa kahaan hai sataae baghair





